نثار کا برطانوی حکام سے رابطہ، ایم کیو ایم کے بیان پر تشویش

ہجوم کو ہنگامہ آرائی پر اکسانے کے لیے برطانوی سرزمین کا استعمال قابلِ مذمت ہے: چوہدری نثار علی خان

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنہجوم کو ہنگامہ آرائی پر اکسانے کے لیے برطانوی سرزمین کا استعمال قابلِ مذمت ہے: چوہدری نثار علی خان

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کی کراچی میں پیر کو ہنگامہ آرائی کی وجہ بننے والی تقریر کے بعد برطانوی وزارتِ داخلہ کے حکام سے کہا ہے کہ وہ ’سنگین جرم میں ملوث شخص‘ کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے معاونت کریں۔

دوسری جانب لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ایک بیان میں اپنی تقریر اور میڈیا کے ساتھ پیش آنے والے ’ناخوش گوار واقعات‘ پر معافی طلب کی ہے۔

عوام کی دل آزاری

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے پیر کو رات گئے برطانوی حکام سے رابطہ کر کے الطاف حسین کی تقریر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہجوم کو ہنگامہ آرائی پر اکسانے کے لیے برطانوی سرزمین کا استعمال قابلِ مذمت ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق وزیر داخلہ نے برطانوی حکام پر واضح کیا ہے کہ الطاف حسین، جو برطانوی شہری ہیں کی طرف سے پاکستانی معاملات میں مداخلت کو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اہلکار کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے برطانوی حکام پر واضح کیا کہ وہ اپنے شہری کو دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت سے روکے اور اُن کے خلاف برطانوی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ایم کیو ایم کے صدر دفتر کو بھی سربمہر کر دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنایم کیو ایم کے صدر دفتر کو بھی سربمہر کر دیا گیا ہے

چوہدری نثار نے کہا کہ الطاف حسین نے اپنی تقریر میں پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف ’ہرزہ سرائی‘ کی جس سے عوام کی دل آزاری ہوئی ہے۔

وزارت داخلہ نے برطانوی حکام کو کراچی میں الطاف حسین کی طرف سے پاکستان مخالف تقاریر پر درج ہونے والے مقدمات کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف یہ مقدمات ملک کے مختلف شہروں میں درج ہیں جن میں سے متعدد مقدمات میں اُنھیں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اگرچے مجرموں کے تبادلے کا کوئی معائدہ موجود نہیں ہے تاہم پاکستان نے متعدد مجرموں کو برطانیہ کے حوالے کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ایک طویل عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور ان کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے۔

اہم رہنما تحویل میں

الطاف حسین نے پیر کی شام اپنی تقریر میں نجی ٹی وی چینلوں، رینجرز اور حکومتِ سندھ کے خلاف بیانات دیتے ہوئے ان کے دفاتر کا گھیراؤ کرنے کی بات کی تھی جس کے بعد نجی چینل اے آر وائی کے دفتر اور قریبی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے تھے۔

اس ہنگامہ آرائی کے بعد رینجرز پیر کی شب پریس کلب کے باہر سے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینیئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار اور صوبائی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لے گئے تھے جنھیں منگل کی صبح چھوڑ دیا گیا۔

رینجرز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے عزیز آباد کے علاقے میں واقع ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر سمیت شہر میں واقع تنظیمی دفاتر کو بھی سیل کر دیا تھا جو بدستور بند ہیں۔

صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ایم کیو ایم کے دفاتر بند کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پنجاب پولیس کے ایک افسر کے مطابق لاہور، ملتان، بہاولپور اور گوجرانوالہ میں اس جماعت کے دفاتر سیل کیے گئے ہیں تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایک تحریری بیان میں اپنی تقریر پر معافی مانگی ہے۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں الطاف حسین نے کہا ہے کہ وہ اپنی ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریاں دیکھ کر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اسی عالم میں وہ تقریر کر بیٹھے۔

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں منگل کو شدت پسندی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق ہونے والے اعلی سطح کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی اس واقعے کے بارے میں پیر کی شب ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کے خلاف بولنے والوں کو ایک ایک لفظ کا حساب دینا ہو گا اور کسی کو بھی قومی سلامتی اور پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اشتعال انگیز بیانات سے قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty

شہر کی صورتِ حال معمول پر

دوسری جانب کراچی میں پیر کو ایم کیو ایم کے کارکنوں کی جانب سے نجی چینل پر حملے اور پھر رات گئے جماعت کے ہیڈکوارٹر پر رینجرز کے آپریشن کے بعد منگل کی صبح شہر میں صورتِ حال قابو میں ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رات کے ڈرامائی واقعات کے بعد منگل کی صبح شہر میں سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں ہے اور سکول، کاروباری ادارے، پیٹرول پمپ اور دفاتر معمول کے مطابق کھلے ہوئے ہیں۔

سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق احمد مہر نے شہر کے تمام پولیس افسران کو کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے، بازار اور تعلیمی ادارے کھلے رکھنے اور ٹرانسپورٹ رواں دواں رکھنے جیسے اقدامات کو ممکن بناتے ہوئے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے حوالے سے تمام تر انسدادی اقدامات کو یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کی شام کو مزارِ قائد پر ایک جلوس کا انعقاد کرے گی جس میں میڈیا پر حملے اور ایم کیو ایم کے سربراہ کی تقریر پر جماعتِ اسلامی کا ردِ عمل پیش کیا جائے گا۔