’ قانون توڑنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے‘
پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نےکہا ہے کہ میڈیا ہاؤسز پر حملے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ہیں اور جو بھی جو بھی ان واقعات میں ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پیر کی شام کراچی میں اے آر وائی کے دفتر پر حملے سمیت اے آر وائی، سما ٹی وی اور جیو نیوز کے ملازمین پر تشدد کے واقعات کے بعد ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ہنگامہ آرائی کی تفصیلات معلوم کیں۔
پولیس کے مطابق سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے ڈیڑھ سے دو ہزار کے قریب کارکنوں نے مدینہ مال میں واقع اے آر وائی کے دفتر اور زینب مارکیٹ میں واقع دوکانوں پر پتھراؤ کیا جس کےنتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 15افراد زخمی ہوئے۔
خیال رہے کہ کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کارکن اپنی جماعت کے قائد الطاف حسین کی تقریر سننے کے بعد مشتعل ہوگئے جس میں انھوں نے کارکنان کو اے آر وائی اور سما ٹی وی چینل کے دفاتر کا رخ کرنے کا کہا تھا اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ اس کے بعد میں سندھ سیکریٹریٹ کو تالہ لگا دیں اور رینجرز( ہیڈ کوارٹر) جائیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے واضح کیا تھا کہ جو قانون کو توڑے گا اس کو انتطامیہ آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی، لیکن ان کی حکومت سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی۔
بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز پر حملہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، پولیس نے 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے اور جو بھی ان واقعات میں ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حملے میں خواتین اور بچوں کو بھی استعمال کیا گیا۔’کوئٹہ جیسا واقعہ ہونے والا تھا جس کو پولیس نے ناکام بنادیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے کہا کہ مذکورہ واقعات کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن سے بات کی اور انھوں نے شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف کوئی احتجاج کے لیے آیا تو اس کو دیکھا جائے گا، مجرم کسی بھی جماعت سے ہوں ان کا تعاقب کیا جائے گا۔
سید مراد علی شاہ نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ پولیس اور رینجرز چینلز کو سیکیورٹی فراہم کرے گی۔







