ایم کیو ایم کے کارکن کو اپنے ساتھی کے قتل پر سزائے موت

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے شہر کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم کے کارکن سید آصف علی کو اپنی ہی جماعت کے کارکن کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔
سید آصف علی پر الزام تھا کہ انھوں نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے وقت فائرنگ کی تھی جس میں ایم کیو ایم کے ہی رکن وقاص شاہ ہلاک ہو گئے تھے۔
٭<link type="page"><caption> ایم کیو ایم کے کارکن کا مبینہ قاتل گرفتار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150625_mqm_worker_killer_arrested_zz" platform="highweb"/></link>
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وقاص شاہ کے قتل کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج پیر کو سنایا گیا۔
فیصلے کے مطابق مجرم آصف شاہ پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
پولیس کا موقف تھا کہ ملزم سید آصف علی نے رینجرز کے چھاپے کے دوران وقاص شاہ پر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ملزم فرار ہوگیا اور رینجرز نے انھیں ضلع سانگھڑ کے شہر شہدادپور سے گرفتار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ نے الزام عائد کیا تھا کہ وقاص شاہ کی ہلاکت رینجرز کی فائرنگ میں ہوئی ہے۔
گذشتہ برس جون میں رینجرز نے ملزم سید آصف کی گرفتاری پر ایک بیان جاری کیا تھا جس کے مطابق ’ملزم نے رینجرز کے چھاپے کی فوٹیج مختلف ٹی وی چینلز پر دیکھی اور اپنی بیوی کے ساتھ ایک پستول سے مسلح ہو کر نائن زیرو پہنچ گیا اور رینجرز اہلکاروں کو اشتعال دلانے کے لیے نعرے بازی شروع کر دی۔‘
رینجرز کے مطابق ’اسی دوران ملزم نے موقع دیکھ کر اپنے پیچھے کھڑے ہوئے ایم کیو ایم کے کارکن وقاص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور ایک منصوبے کے تحت اپنے ساتھیوں کے ساتھ میڈیا کو وقاص کی لاش کے قریب بلایا اور واویلا کیا کہ وقاص کو رینجرز نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ملزم نے اس کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لے داڑھی رکھ لی اور اندرون سندھ فرار ہو گیا جہاں سے اسے گرفتار کیا گیا۔







