’نائن زیرو پر کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر کی گئی‘

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والی کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئی۔
ادھر ایم کیوایم نے نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے اور وہاں اپنے ایک کارکن کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رینجرز نے بدھ کی صبح عزیز آباد کے علاقے میں نائن زیرو کے نام سے معروف ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر اور سیکریٹیرٹ پر چھاپہ مارا تھا۔
اس کارروائی کے دوران حکام نے وہاں سے<link type="page"><caption> ’سزا یافتہ ٹارگٹ کلرز‘ کی گرفتاری اور بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/03/150311_mqm_rangers_search_operation_mqm_office_hk" platform="highweb"/></link>کا دعویٰ کیا تھا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق بدھ کی شام اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ نائن زیرو پر چھاپہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مارا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں فوج کے ذریعے آپریشن ایم کیو ایم کا ہی مطالبہ تھا اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرنا رینجرز اور پولیس کا استحقاق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چوہدری نثار کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔
ایم کیو ایم کے مرکز پر اس کارروائی کے دوران فائرنگ سے ایم کیو ایم کا ایک کارکن بھی ہلاک ہوا ہے اور ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپے کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں وقاص علی نامی کارکن ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
اسی سلسلے میں ایم کیو ایم کے اہم رہنماؤں پر مشتمل پانچ رکنی وفد نے بدھ کی شب وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے سندھ حکومت سے نائن زیرو پر چھاپے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور وزیرِ اعلیٰ نے عدالتی تحقیقات کروانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
فیصل سبزواری کا یہ بھی کہنا تھا کہ رینجرز کے چھاپے میں نائن زیرو سے کوئی گرفتاری نہیں ہوئی تاہم اطراف کے علاقوں سے 106 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان 106 میں سے صرف 24 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اگر ان 24 افراد کے خلاف کارروائی کی بھی جا رہی ہے تو باقی افراد کو رہا کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایم کیو ایم سوگ میں ہے لیکن جماعت کی طرف سے جمعرات کو کاروبار بند رکھنے کی کوئی کال نہیں دی گئی ہے۔
اس سے قبل بدھ کی صبح اس چھاپے کے بعد رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر نے میڈیا کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو میں دو گھنٹے تک کارروائی کی گئی جس میں انھیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
رینجرز کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن کے دوران سزائے موت پانے والے قیدیوں اور ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا جن کے خلاف ایف آئی آرز درج ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کسی بھی رکنِ اسمبلی و صوبائی اسمبلی کو حراست میں نہیں لیا گیا تاہم ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان رینجرز کے پاس ہیں جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
ترجمان کے بقول ’عامر خان صاحب ہمیں بتائیں گے کہ یہ لوگ (جن مجرموں کی میں بات کر رہا ہوں) یہ ان کے پاس کیوں تھے۔‘
کرنل طاہر نے کہا کہ کارروائی کے دوران غیرملکی ممنوعہ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ ’ایسا اسلحہ یہاں موجود ہے جسے پاکستان میں درآمد کرنا ممنوع ہے، میرے ذاتی خیال سے نیٹو کنٹینروں سے چوری شدہ اسلحہ بھی یہاں موجود ہے۔‘

بریفنگ کے بعد رینجرز ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں ان اہم مجرموں کے نام بتائے گئے جنھیں خورشید میموریل ہال سمیت نائن زیرو سے ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا۔
بیان کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد میں سے فیصل محمود عرف فیصل موٹا صحافی ولی خان بابر کے قتل کے مقدمے کا مرکزی ملزم ہے جسے سزائے موت سنائی جا چکی ہے جبکہ نادر نامی مجرم کو 13 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس کے علاوہ زیرِحراست دیگر افراد میں فرحان شبیر، عامر اور عبید کے ٹو کی شناخت ہوئی ہے۔
کرنل طاہر نے بتایا تھا کہ ایم کیو ایم کے دفتر کو بھی سیل کر دیا گیا ہے اور’اس دفتر کو وقتی طور پر پولیس کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ ابھی ہم نے اس کی مزید چھان بین کرنی ہے۔‘
ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوری نے تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم کا سیکریٹیریٹ ’خورشید بیگم میموریل ہال‘ سیل کر دیا گیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا مرکز نائن زیرو پولیس کی تحویل میں نہیں ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے رینجرز کی کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے دفتر میں موجود اسلحہ پارٹی نے اپنی حفاظت کے لیے رکھا گیا جو لائسنس یافتہ تھا اور رینجرز اس سے آگاہ تھی۔







