ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ جاری

صولت مرزا نے سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو مسترد ہو گئی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC

،تصویر کا کیپشنصولت مرزا نے سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو مسترد ہو گئی تھی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے ہیں۔

انھیں 19 مارچ کو بلوچستان کی مچھ جیل میں پھانسی دی جائی گی۔

صولت مرزا پر الزام تھا کہ انھوں نے 5 جولائی 1997 کو کراچی کے علاقے ڈیفینس میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد، اُن کے ڈرائیور اشرف بروہی اور محافظ خان اکبر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

اس کارروائی کے بعد وہ بیرون ملک فرار ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق صولت مرزا کو دسمبر 1998 میں بینکاک سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا اور اُن کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی۔

عدالت نے سنہ 1999 میں صولت مرزا پر جرم ثابت ہونے پر انھیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

صولت مرزا نے سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو مسترد ہو گئی تھی۔ محکمہ داخلہ سندھ اور صدرِ پاکستان کے پاس اُن کی رحم کی اپیل ایک بڑے عرصے تک التوا کا شکار رہی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے پھانسی کے عملدرآمد پر عائد غیر اعلانیہ پابندی سے بھی صولت مرزا کو ریلیف ملا۔

پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 132 بچوں سمیت 144 افراد کی ہلاکت کے بعد سزائے موت کے ملزمان کی پھانسی کا سلسلہ شروع ہوا تو دیگر ملزمان کے ساتھ صولت مرزا کی رحم کی آخری اپیل بھی صدر پاکستان نے مسترد کردی لیکن بعد میں حکومت نے سزا پر عملدرآمد روک دیا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جس دن رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا اُسی دن سینٹرل جیل حکام نے صولت مرزا کی سزا پرعمل درآمد کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جاوید عالم سے ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی۔

عدالت نے مجرم کے بلیک وارنٹ جاری کرکے 19 مارچ کو سزا پر عملدرآمد کا حکم دیا۔

کراچی میں سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے صولت مرزا کو بلوچستان کی مچھ جیل منتقل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کے آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگھن کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق مجرم جس جیل میں ہوتا ہے سزا پر عملدرآمد بھی وہاں ہی ہوتا ہے اور ملزم کے ڈیتھ وارنٹ مچھ جیل کو پہنچا دیے گئے ہیں۔