کراچی تشدد،پارلیمانی کمشن کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہAFP
متحدہ قومی موومنٹ کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے حقائق جاننے کے لیے پارلیمان کا کمیشن بنانے اور متاثرین کو جانی و مالی نقصان کی تلافی کے لیے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں ہفتہ بھر سے کراچی اور بلوچستان میں پرتشدد واقعات کے متعلق جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے فاروق ستار نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کراچی میں شدت پسندی کے واقعات اور وہاں سیکورٹی فورسز کے بر وقت نہ پہنچنے کے معاملات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر جرائم پیشہ افراد اور بھتہ خوروں کی سرپرستی کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ سب کچھ کراچی پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا وہ تین برسوں سے صدر اور وزیراعظم کو پانچ سو ‘انڈر ورلڈ‘ کے جرائم پیشہ لوگوں، انتہا پسندوں، پیپلز امن کمیٹی اور ‘گینگسٹرز‘ کی فہرست پیش کرتے رہے ہیں لیکن حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ انہوں نے ایوان میں وہ فہرست لہراتے ہوئے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے ریکارڈ پر جرائم پیشہ افراد کے نام لانا چاہتے ہیں۔ لیکن جب متحدہ قومی موومنٹ سے وہ فہرست حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ فہرست ذرائع ابلاغ کو جاری نہیں کرنا چاہتے۔
فاروق ستار نے کہا کہ رواں سال کراچی میں پندرہ سو لوگ مارے جاچکے ہیں جس میں اسی فیصد کا تعلق ان کی جماعت سے ہے۔ ان کے بقول انہیں حکومت سے علیحدہ ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ناکام ریاست بننے سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے اور کراچی میں بلا تفریق جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سیاست کا شکار ہے اس لیے وہ فوج یا رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہیں، تاکہ ایک غیر جانبدار فورس کارروائی کرے۔
مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے ایم کیو ایم کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ انہیں حکومت سے علیحدگی کی سزا دی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ کراچی اور بلوچستان میں بدامنی کی ذمہ دار حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو سزا نہیں ملے گی اس وقت تک وہاں امن قائم نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نئے صوبے بنانے کی حامی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ زبان، نسل یا فرقے کی بنیاد پر صوبے بنانے کے وہ خلاف ہیں۔
ابھی بحث جاری تھی کہ وقت حتم ہونے کی وجہ سے مزید کارروائی پیر کی دوپہر تک ملتوی کردی گئی۔
یا رہے کہ بحث کے دوران تین روز قبل پیپلز پارٹی کے کراچی سے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا تھا کہ کراچی کے حالات کی خرابی کی بڑی وجہ متحدہ قومی موومینٹ اور ایم کیو ایم حقیقی کے درمیاں لڑائی ہے کیونکہ متحدہ ولے حقیقی کی سیاسی حیثیت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔







