رینجرز کا ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ

رینجرز نے رواں سال 11 مارچ کو بھی ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرینجرز نے رواں سال 11 مارچ کو بھی ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے شہر کراچی میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر جمعرات کی رات گئے چھاپہ مار کر ایم کیو ایم کے دو عہدیداران کو حراست میں لے لیا۔

ترجمان رینجرزنے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے مستقبل میں مزید گرفتاریوں کا بھی عندیہ دیا۔

ایم کیو ایم کے میڈیا کوآرڈینیٹر واسع جلیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز نے خورشید میموریل ہال پر چھاپہ مارا۔

انھوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران رابطہ کمیٹی کے انچارج کیف الوریٰ اور رابطہ کمیٹی کے رکن قمر منصور کو حراست میں لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ان دونوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

واسع جلیل نے دعویٰ کہ رینجزر نے ایک بار پر بغیر کسی وارنٹ کے نائن زیرو پر چھاپ مارا۔

ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپے کے بعد جماعت کے رہنماؤں نے جمعرات کی رات گئے ہنگامی پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو بلا جواز گرفتار کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریاں ہماری راستہ نہیں روک سکتیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ آج کے چھاپے سے پاکستان کا چہرہ داغ دار کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں قانون نافد کرنے والے ایسے اقدامات نہیں کرتے۔

فاروق ستار نے پریس کانفرنس کے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کی سخت مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ہمارا حوصلہ پست نہیں کر سکتے۔

ترجمان رینجرزنے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے مستقبل میں مزید گرفتاریوں کا بھی عندیہ دیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنترجمان رینجرزنے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے مستقبل میں مزید گرفتاریوں کا بھی عندیہ دیا

دوسری جانب رینجرز کے ترجمان نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپے کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔

بیان کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ رینجرز کی کارروائی کے دوران کیف الوریٰ اور قمر منصور کو گرفتار کیا گیا۔ ترجمان نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے مستقبل میں مزید گرفتاریوں کا بھی عندیہ دیا۔

ان کے مطابق یہ گرفتاریاں نفرت انگیز تقاریر کا انتظام اور سہولت فراہم کرنے پر عمل میں آئیں جن میں پاکستان رینجرز کے جوانوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کے سہولت کاروں کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور مستقبل قریب میں مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔

واضح رہے کہ رواں سال 11 مارچ کو بھی رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا۔

اس چھاپے میں رینجرز نے وہاں سے’سزا یافتہ ٹارگٹ کلرز‘ کی گرفتاری اور غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھا۔