’متحدہ کا لندن دفتر سے اظہارِ لاتعلقی ہی واحد راستہ تھا‘

مختلف شہروں میں الطاف حسین کے بیان پر مظاہرے بھی کیے گئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمختلف شہروں میں الطاف حسین کے بیان پر مظاہرے بھی کیے گئے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے گذشتہ روز کے بیان اور پاکستان کے خلاف نعرہ بازی پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم لندن سے لاتعلقی کے علاوہ پاکستان کی قیادت کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔

سیاسی جماعتوں کے قائدین نے پاکستان مخالف تقاریر، نعرے بازی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے اور اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

٭<link type="page"><caption> ’فیصلے ہم کریں گے اور ایم کیو ایم پاکستان سے چلےگی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160823_farooq_sattar_presser" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’پاکستان کے خلاف بات ذہنی دباؤ کے نتیجے میں کی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160823_altaf_hussain_apology_zis" platform="highweb"/></link>

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ لندن دفتر سے لاتعلقی جماعت کے قائدین کے پاس واحد راستہ تھا اور اب فاروق ستار اور دیگر مقامی قائدین کو اسے ثابت بھی کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ عام اردو بولنے والا معصوم ہے اور وہ پاکستان سے انتہائی محبت کرتے ہیں اس لیے اس ساری صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم کو سوچا جا سکتا ہے لیکن اس میں جو مسلح لوگ ہوں انھیں کنٹرول کرنا ہوگا وگرنہ یہ ساری مشق بے سود ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف نعرے اور باتیں ایم کیوایم کے سربراہ نے پہلی مرتبہ نہیں کیں بلکہ سنہ 1979 سے یہی سلسلہ چل رہا ہے ۔

سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ لندن دفتر سے لاتعلقی جماعت کے قائدین کے پاس واحد راستہ تھا
،تصویر کا کیپشنسینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ لندن دفتر سے لاتعلقی جماعت کے قائدین کے پاس واحد راستہ تھا

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی نے کہا ہے کہ یہ جماعت کا اپنا فیصلہ ہے اور یہ شاید نقصان پر قابو پانے یعنی ڈیمج کنٹرول کا راستہ ہے کیونکہ جو کچھ گذشتہ روز ہوا اس کا دفاع نہیں ہو سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سندھ میں صوبائی حکومت نے تمام قانونی کارروائی کی اور اس سلسے میں گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں اب اس بارے میں مزید اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان مخالف تقاریر کرنے کی مذمت کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے رہنما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق غنی نے کہا ہے کہ پاکستان مخالف باتیں کرنے والے تمام افراد کو سخت سزا دی جائے ۔

 میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ بار بار پاکستان مخالف باتیں کرنا ناقابل معافی جرم ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ بار بار پاکستان مخالف باتیں کرنا ناقابل معافی جرم ہے

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ الطاف حسین نے پاکستان مخالف باتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے اور

برٹش ہائی کمیشنر کو طلب کرکے اسے کہنا چاہیے کہ برطانیہ سے ان کے ملک کے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں۔ مشتاق غنی کے مطابق یہ وفاقی حکومت کی نااہلی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ بار بار پاکستان مخالف باتیں کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک تشدد کی بات ہے اور میڈیا کے دفاتر پر حملہ ہے اس کی سزا ضرور ہونی چاہیے باقی رہ گئی بات ان کی باتوں کی تو یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ کس طریقے سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

میاں افتخار حسین نے ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر حملوں کی بھی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ قابل برداشت نہیں ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیح رشید احمد نے ایم کیو ایم لندن کے دفتر سے لاتعلقی کے فیصلے کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ اب مقامی قیادت کو یہ سب ثابت بھی کرنا ہوگا ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک عرصے سے ایم کیو ایم میں ’مائنس الطاف حسین‘ کی باتیں ہو رہی تھیں اور منگل کو جو پیش رفت ہوئی ہے یہ اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔