’خواجہ سرا قوانین پر عملدرآمد کے منتظر‘

پاکستان میں خواجہ سرا کمیونٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی تشدد اور غیر منصفانہ رویوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور عدالتی فیصلوں اور قوانین کے باوجود ان کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔

بی بی سی اردو کے <link type="page"><caption> خصوصی فیس بُک لائیو</caption><url href="https://business.facebook.com/bbcurdu/videos/1243601902348107/" platform="highweb"/></link> میں خواجہ سرا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی فرزانہ اور ایک غیر سرکاری تنظیم ’بلو وینز‘ کے قمر شامل ہوئے جسے ہماری ساتھی ارم عباسی نے پیش کیا۔

یہ فیس بُک لائیو اسلام آباد میں دو غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے درمیان مشاورت کے لیے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والے سیمینار سے لائیو پیش کیا گیا۔

فرزانہ نے بی بی سی اردو کے قاری کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’خواجہ سرا برادری کے حقوق کے بارے میں آگہی بہت کم ہے اور لوگ انہیں اب بھی برابر کے انسان نہیں سمجھتے۔‘

اس فیس بُک لائیو میں خواجہ سرا کمیونٹی کے مسائل جن میں مردم شماری سے متعلق تحفظات، تشدد اور حکام کی جانب سے تعاون کے بارے میں درپیش مسائل پر بات کی گئی۔

خواجہ سرا کمیونٹی کے اراکین نے معاشرے کی جانب سے تحفظ اور مسائل کے حل میں قانونی رکاوٹوں کی شکایت کی۔

وہاں موجود ایک رکن نے بتایا کہ ایک مقامی کونسل نے انھیں ملازمت دی مگر حراساں کرنے پر انھوں نے ناظم سے شکایت کی تو انھیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔

آپ بھی یہ فیس بُک لائیو ہمارے فیس بُک پیج پر دیکھ سکتے ہیں جس کے لیے آپ <link type="page"><caption> اس لنک پر کلک</caption><url href="https://business.facebook.com/bbcurdu/videos/1243601902348107/" platform="highweb"/></link> کریں۔