’ہمیں حکومت معذور کیوں سمجھ رہی ہے؟‘

    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’مردوں اور عورتوں کی طرح ہمیں اپنا پیشہ خود چننے کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟‘ یہ سوال کر رہی ہیں خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن فرزانہ۔

خیبر پختونخوا کی حکومت کی تجویز ہے کہ خواجہ سراؤں کو ناچ گانے کی بجائے سلائی کڑھائی کی طرف راغب کیا جا سکے تاکہ وہ مفید شہری بن سکیں۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ سالانہ بجٹ میں 20 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرزانہ کا کہنا ہے کہ ’ہم معذوروں کی عزت کرتے ہیں، معذور وہ ہوتے ہیں جو بول نہ سکیں یا دیکھ نہ سکھیں۔ ہم معذور نہیں ہیں، ہم اپنی روزی کمانے کے قابل ہیں، ہمیں حکومت معذور کیوں سمجھ رہی ہے؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت یہ پیسے شاید اس لیے دے رہی ہے کہ وہ ہماری بیماری یا معذوری دور کر سکے۔‘

فرزانہ پوچھتی ہیں کہ ’حکومت ہمیں فنکار ماننے سے انکار کیوں کر رہی ہے؟ کیا لوگ ٹکٹ خرید کر سینما ناچ گانا دیکھنے نہیں جاتے؟ لوگ شادیوں پر ناچ گانا نہیں کرتے، کیا ناچ گانا ایک ہنر نہیں؟‘

فرزانہ اور ان کے بیشتر ساتھیوں کی جانب سے متعدد احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے حکومت مجبور ہوئی کہ وہ تشدد کا شکار ہونے والی خواجہ سرا برداری کے لیے بجٹ مختص کرے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جنس کی بنیاد پر تشدد کے خلاف خیبر پختونخوا میں مہم چلانے والی بلیو وینز نامی تنظیم کے اعدادوشمار کے مطابق صرف 2015 میں 46 خواجہ سراؤں کو مختلف واقعات میں ہلاک کیا گیا۔ رواس سال خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد کے 300 واقعات صرف ایک صوبے میں رپورٹ ہوئے۔ اور حالیہ دنوں میں نو تشدد کے واقعات صرف خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں۔

تنظیم کے سربراہ قمر نسیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’بجائے اس کے کہ حکومت خواجہ سراؤں کو کمتر سمجھنے والے معاشرے کی سوچ تبدیل کرے وہ خود انہیں بوجھ سمجھ رہی ہے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ یہ پیسے اس لیے دیے جا رہے کہ خواجہ سراؤں کو مفید شہری بنایا جا سکے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت انہیں مفید شہری نہیں سمجھتی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کوئی خواجہ سرا اپنی مرضی سے سلائی کڑھائی کی طرف جانا چاہتا ہے تو وہ ضرور جائے مگر حکومت کی جانب سے خواجہ سراؤں کو چند شعبوں تک محدود رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘

32 سالہ صنم بھی حکومت سے زیادہ پر امید نہیں۔ وہ 13 برس کی عمر میں گھر والوں کی مار پیٹ کی وجہ سے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ انھیں والد اور پانچ بھائی لڑکیوں کے ساتھ کھیلنے یا وہ کپڑے پہننے پر زنجیروں سے مارتے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’گھر سے نکلی لیکن تشدد بڑھتا ہی گیا۔ ایک مرتبہ ہم ایک تقریب میں گئے۔ تقریب والوں نے کہا وہ ہمیں گھر چھوڑ دیں گے مگر وہ ٹال مٹول کرنا شروع ہو گئے۔ بالآخر انھوں نے کہا رات یہیں گزار لو ہم صبح چھوڑ دیں گے۔‘

صنم نے مزید بتایا ’انھوں نے ہمیں اپنے کمرے میں ہی سونے کو کہا۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے پہلے میرے بال کھینجے پھر شلوار۔ جس پر ہم سب نے شور مچایا۔ اس کے نتیجہ میں انھوں نے ہم سب کو بری طرح مارنا شروع کر دیا۔ پھر ہمارا ریپ کیا۔ ان بچوں کا بھی جو ہمارے گروپ میں شامل تھے۔ جن کی عمریں بمشکل گیارہ بارہ برس ہوں گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہم روتے ہوئے وہاں سے نکلے تو پولیس کی ایک وین ملی۔ ہم نے انھیں اپنی روداد سنائی تو انھوں نے کہا وین میں بیٹھ جاؤ۔ وہ ہمیں ایک دکان کے سامنے ایک چوکیدار کے کمرے میں لے کر گئے۔ ہمارے کپڑے اتروائے اور باری باری ڈرائیوار سے لے کر آفیسر تک سب نے ہمارا ریپ کیا۔‘

صنم نے روتے ہوئے یہ واقعہ سنایا اور کہا ’گھر والوں سے لے کر باہر والوں نے اتنا ظلم میرا ساتھ کیا ہے کہ اب میرے پاس کھونے کےلیے کچھ بھی نہیں۔ اسی لیے مجھے اب اپنے اور اپنے ساتھیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے ڈر نہیں لگتا۔‘