پاکستان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے سنجیدہ؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے ملک میں موجود لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی واپسی میں چھ ماہ کی توسیع تو بظاہر نہ چاہتے ہوئے کر دی ہے لیکن کیا اس مرتبہ اس کا انھیں واپس بھیجنے کا ارادہ کیا مصمم ہے؟
بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں اگر پاکستان اس مرتبہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی میں سنجیدہ ہوتا تو ان کے قیام میں چھ ماہ کی توسیع کی بجائے اسے آخری ڈیڈ لائن قرار دیتا۔
حکومت پاکستان ویسے تو کافی عرصے سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کی متمنی ہے لیکن پچھلے دو تین ماہ سے اس خواہش میں یکدم اضافہ اور مطالبے میں سختی آئی ہے۔
اس کی وجہ پاکستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی تصور کی جا رہی ہے لیکن ایک بڑی وجہ حکومت پاکستان کی ملک کے اندر شدت پسندی میں قدرے کامیابی سے کمی لانا بھی ہے۔ اُسے خدشہ ہے کہ افغان شہریوں کی موجودگی سے امن عامہ کی صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔
افغان امور کے ماہر جمعہ خان صوفی کے خیال میں اس مرتبہ حکومت ماضی کے برعکس زیادہ سنجیدہ ہے۔
ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں تین بڑی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کا نظریہ تبدیل ہوا ہے۔ ایک ملا اختر منصور کا واقعہ ہوا جس سے بہت بدنامی ہوئی اور دوسرا افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے لوگوں کی یہاں سے گرفتاری تھی جو بقول حکومت یہاں تخریب کاری کرتے تھے۔ لیکن سوچ میں تیزی سے تبدیلی میں اہم کردار طورخم کے سرحدی مقام پر حالیہ کشیدگی نے کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینیئر صحافی اور نیوز ویک کے نامہ نگار سمیع یوسفزئی کے خیال میں پاکستان کا غصہ وقتی ہے اور تعلقات کے معمول پر آنے سے پناہ گزینوں پر دباؤ بھی ختم ہو جائے گا۔ ان کا الزام تھا کہ پناہ گزینوں کی باعزت واپسی میں نہ تو افغان حکومت، نہ اقوام متحدہ اور نہ ہی پاکستان سنجیدہ ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’اگر افغان حکومت ان کی جلد واپسی چاہتی تو وہ ان کے لیے ایسی مراعات کا اعلان کرتی جنھیں رد کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا اور وہ لوٹنے پر مجبور ہوتے۔‘
سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ پاکستان ابھی افغان مہاجرین کی واپسی میں سنجیدہ نہیں۔
’سنہ2007 میں پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کے دوسرے بڑے کیمپ جلوزئی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی تھی اور یہ ہدف مقررہ وقت میں حاصل کر لیا تھا۔ اگر پاکستان چاہتا تو وہ چھ ماہ کی توسیع دینے کی بجائے اس مرتبہ بھی ڈیڈ لائن دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ بھی ان پناہ گزینوں کی نہ تو زیادہ مدد کر رہی ہے اور نہ ہی انھیں واپس جانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔
’اس عالمی ادارے کے لوگوں کی نوکریاں اور مراعات ان پناہ گزینوں سے منسلک ہیں تو وہ بھی ان کی جلد شاید واپسی نہیں چاہتے۔‘
جمعہ خان صوفی کا کہنا ہے کہ افغانوں کے لیے بھی طویل مدتی تناظر میں بہتر ہے کہ وہ واپس لوٹ جائیں۔
’جب دیگر آپشنز ختم ہو جاتے ہیں تو پشتون پھر گھر میں سب سے بنا کر رکھتا ہے۔ مختصر مدت میں تو شاید یہ افغان حکومت کے لیے مسائل پیدا کرے لیکن طویل مدت میں یہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ وہ اپنے علاقے میں رہ کر دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا کر وہاں کی بحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ یہاں تو وہ نہ افغان ہیں اور نہ پاکستانی۔‘
افغانستان کے ساتھ پہلے سرحدی معاملات پر اور اب پناہ گزینوں کے مستقبل کے بارے میں تناؤ کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان میں موجود تقریباً 15 لاکھ رجسٹرڈ اور انداز دس لاکھ غیر رجسٹرڈ افغانوں کو ہو رہا ہے۔ ان کے لیے حالات پہلے بھی یہاں مشکل تھے اور ایسی کشیدگیاں ان کو مزید مشکل میں ڈال دیتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کے بیانات سے پاکستانی عوام میں افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے انھیں واپس جانے کے لیے راغب کرنے کے لیے ان کی واپسی کی امداد دگنی کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس سے عالمی برادری میں ان خدشات نے جنم لیا کہ کہیں وہ اپنے ملک کی بجائے یورپ کا رخ نہ کر لیں۔
افغان پناہ گزینوں کی پاکستان سے واپسی فی الحال کوئی آسان بات دکھائی نہیں دیتی ہے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ حکومت بہت جلد ایک جامع پالیسی تشکیل دے گی، وزیر اعظم نواز شریف کی برطانیہ سے واپسی پر اس پر بات ہوگی اور ان کے اندراج اور واپسی سے متعلق ایک قومی پالیسی ترتیب دی جائے گی۔
پاکستان کو احتیاط کرنا ہوگی کہ کہیں پناہ گزینوں کی افغانستان واپسی ایسے انداز سے نہ ہوکہ اس سے وہ افغانستان کے اندر اپنی پہلے سے متاثرہ ساکھ کو مزید نقصان نہ پہنچا دے۔







