افغان پناہ گزینوں کی واپسی، واضح طریقۂ کار کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کی پاکستان میں رہائش میں چھ ماہ کی توسیع کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے فوری طور پر طریقۂ کار وضع کیا جائے۔
ادھر افغان سفیر نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے افغانستان میں رہائش کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے افغان پناہ گزینوں کو واپس اپنے وطن بھیجا جائے جب کہ وفاقی حکومت اس بارے میں بظاہر کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر افغان پناہ گزینوں کے پاکستان میں قیام میں چھ ماہ کی توسیع کر دی ہے اور اب انھیں رواں برس 31 دسمبر تک رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ وہ وفاقی حکومت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ کم سے کم ان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے کوئی باقاعدہ لائحہ عمل طے کرے اور اس کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین سے رابطہ کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ان مہاجرین کی پاکستان میں رہائش میں بار بار توسیع کی جاتی ہے تاہم ان کی واپسی کے لیے کوئی طریقۂ کار وضع نہیں کیا جا رہا ہے۔

مشتاق غنی کے مطابق خیبر پختونخوا میں بیشتر جرائم اور دہشت گردی کے واقعات کی کڑیاں افغانستان یا یہاں رہائش پزیر افغان مہاجرین سے جا ملتی ہیں۔
اس کے علاوہ افغان سفیر حضرت عمر زخیلوال نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے جمعرات کو ملاقات کی جس میں افغان پناہ گزینوں کی رہائش کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔
مشتاق غنی نے بتایا کہ افغان سفیر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان چھ ماہ میں افغانستان میں مہاجرین کی رہائش کے انتظامات کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ افغان سفیر سے ملاقات مثبت رہی اور اس میں باہمی امور پر بات چیت کی گئی۔
مشتاق غنی کے مطابق خیبر پِختونخوا میں افغان پناہ گزینوں کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کیا جا رہا تاہم اگر کوئی افغان شہری کسی جرم میں ملوث ہو تو اسے گرفتار کیا جاتا ہے اور یا کسی کے پاس یہاں رہنے کی مکمل دستاویزات نہ ہوں تو انھیں گرفتار کرکے وطن واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایک اندازے کے مطابق چھ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اور اس سے کہیں زیادہ تعداد میں غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین رہتے ہیں۔ صوبے میں 29 کیمپس ہیں لیکن بڑی تعداد میں پناہ گزین شہری آبادی میں رہ رہے ہیں۔
پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے تحت غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئیں۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران بھی ایک ہزار سے زائد غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو گرفتار کرکے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔







