پشاور میں افغان شہریوں کے خلاف مظاہرہ

پشاور احتجاج

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپشاور میں تاجروں نے پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو فوری طور پر واپس افغانستان بھیجنے کا مطالبہ کیا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان اور افغانستان کے مابین طورخم سرحد پر حالیہ کشیدگی کی وجہ سے پاکستان بھر میں مقیم افغان شہریوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں پیر کو پشاور کی تاجر برادری کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان سے ان کی فوری بے دخلی کا مطالبہ کیا گیا۔

پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر پشاور پریس کلب کے سامنے منعقدہ اس قدرے غیر معمولی احتجاجی مظاہرے میں پشاور کے چھوٹے دکانداروں اور صنعت کاروں کے علاوہ عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ’ گو افغانی گو، افغانوں کو اپنی مٹی پر نہیں مانتے اور افغانوں کا جو یار ہے غدار غدار ہے‘ کے نعرے درج تھے۔

مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ ملک کے مختلف شہروں میں آباد افغان شہریوں کو فوری طورپر اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے۔ اس موقع پر مظاہرین نے افغانستان کے سابق اور موجود صدر حامد کرزئی اور اشرف غنی کی تصویریں کو بھی پھاڑ ڈالا اور بعد میں انھیں آگ لگائی۔

مظاہرے میں شامل ایک تاجر ولی یوسف زئی نے کہا کہ پاکستانی قوم نے بڑی مشکل وقت میں افغان بھائیوں کو پناہ دی اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس نیکی کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ ہمیں مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ طورخم سرحد پر حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے لہذا اب مزید اس طرح کے واقعات برداشت نہیں ہو سکتے۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکال کر اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے کیونکہ پاکستان کی معیشت مزید اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتی۔

پاکستان میں کچھ عرصہ سے افغان شہریوں کے خلاف جذبات بڑھتے جا رہے ہیں تاہم طورخم سرحد پر حالیہ کشیدگی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے سماجی رابطے کے ویب سائٹوں پر بھی دونوں ممالک کے نوجوان طبقے نے ایک دوسرے کے خلاف جذبات کو ابھارنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

طورخم

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنطورخم سرحد پر پاکستان اور افغان افواج میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں

مظاہرے میں شامل ایک اور تاجر عابد کمال نے کہا کہ افغان مہاجرین کی موجودگی کی وجہ سے پشاور کے چھوٹے دکانداروں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر کاروبار پر مہاجرین کا قبضہ ہے اس کے علاوہ ملک میں ستر فیصد جرائم میں افغان شہری ملوث ہیں لہذا اب ان سے جان چھڑانے کاوقت آگیا ہے اور اگر اس مرتبہ بھی ان کو نہیں نکالا گیا تو پھر کئی قسم کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین حکومتوں کی سطح پر تعلقات اکثر اوقات تناؤ کا شکار رہے ہیں تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ نفرت کی یہ دیواریں اب دونوں ممالک کے عوام کے مابین بھی حائل ہو رہی ہے جو ایک خطرے کی علامت ہے۔