پاک افغان سرحد پر غیر قانونی افغانیوں کے خلاف آپریشن

پاک، افغان سرحدی علاقے طورخم اور آس پاس کے علاقوں میں 318 افغان خاندان رہائش پذیر ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاک، افغان سرحدی علاقے طورخم اور آس پاس کے علاقوں میں 318 افغان خاندان رہائش پذیر ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے طورخم میں عرصہ دراز سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو نکالنے کے لیے دی گئی مہلت کے اختتام پر ان کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیاگیا ہے۔

لنڈی کوتل کے تحصیلدار شکیل عمر زئی نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ طورخم کے علاقے باچا مینہ میں عرصہ دراز سے رہائش پذیر غیر اندراج شدہ افغان شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کے لیے تین دن کی مہلت دی گئی تھی، تاہم مذکورہ وقت میں علاقہ خالی نہیں کیا گیا جس کے بعد ان کے مکانات مسمار کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے ان افغان شہریوں کے مکانات کوگرایا جا رہا ہے جو علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

اہلکار کے مطابق اس آپریشن میں لیوی اور خاصہ دار فورس کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی مدد لی جا سکتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ طورخم اور آس پاس کے علاقوں میں 318 افغان خاندان رہائش پذیر ہیں جن کی مجموعی تعداد 1900 نفوس پر مشتمل ہے۔

ان کے مطابق مہلت کے خاتمے پر صرف چند خاندان ہی علاقہ چھوڑ کر افغانستان منتقل ہوئے جبکہ بیشتر بدستور وہاں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مکانات مسمار کرنے کی کارروائی کئی دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

رہائیش پذیر خاندانوں کی مجموعی تعداد 1900 نفوذ پر مشتمل ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرہائیش پذیر خاندانوں کی مجموعی تعداد 1900 نفوذ پر مشتمل ہے

ادھر علاقے میں موجود خیبر ایجنسی کے ایک مقامی صحافی اشرف الدین پیرزادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ کی طرف سے بلڈوزروں اور بھاری مشینری کی مدد سے مکانات کو مسمار کیا جا رہا ہے اور اب تک 27 مکانات کو گرایا جا چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے سارے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور علاقے میں ہائی الرٹ کی صورت حال ہے جبکہ سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 80 کی دہائی میں روس کے خلاف جہاد کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین نے ہجرت کر کے پاکستان میں پناہ لے لی تھی۔ ان میں کئی خاندان خیبر ایجنسی کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں مقیم ہوگئے تھے۔

تاہم پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد سے حکومت کی طرف سے غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کیا گیا اور اب تک اس ضمن میں سینکڑوں افغانیوں کوگرفتار کر کے ملک بدر کیا گیا ہے۔

حکومت الزام لگاتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی اور بھتہ خوری کے زیادہ تر واقعات میں جرائم پیشہ افغان شہری ملوث رہے ہیں۔

یاد رہے مختلف اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 20 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین آباد ہیں جن میں دس لاکھ شہری غیر قانونی طورپر رہائش پذیر ہیں۔