پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی امداد میں کمی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
یورپ میں شام اور دیگر ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کے بعد اب یورپی ممالک نے پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی مالی امداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی اسلام آباد میں ترجمان دنیا اسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ امدای رقوم میں کٹوتی سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا اور اس پر قابو پانے کے لیے وہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے رابطے کریں گے ۔
اقوام متحدہ کے ادارے کے امور چلانے کے لیے سالانہ 14 کروڑ 70 لاکھ ڈالر درکار ہیں اور اب تک انھیں 40 فیصد بجٹ مل چکا ہے ۔
ترجمان دنیا اسلم خان کے مطابق فنڈز میں یہ کٹوتی صرف پاکستان میں افغانیوں کے لیے نہیں بلکہ یو این ایچ سی آر کے دنیا بھر میں تمام منصوبوں کے لیے ہے اور اس سے چند ایک منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان نے سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دی تھی جن میں زیادہ تر افغان ہیں جو 30 سال پہلے نقل مکانی کر کے پاکستان آئے تھے۔ اس وقت پاکستان میں 15 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں جن میں 35 فیصد کیمپوں میں اور دیگر شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یو این ایچ سی آر کے مطابق دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی تعداد چھ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے اور حالیہ دنوں میں شام اور دیگر ممالک سے لاکھوں لوگ یورپی ممالک کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ترجمان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں انسانی ہجرت کی وجہ سے امدادی ممالک نے اب پناہ گزینوں کے لیے امدادی فنڈ پر کٹوتی کی ہے جس سے پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے کچھ منصوبے متاثر ہوں گے۔
دنیا اسلم خان نے بتایا کہ یو این ایچ سی آر افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں جہاں دیگر سہولیات فراہم کر رہا ہے وہاں صحت اور تعلیم کے منصوبے بھی جاری ہیں ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کے بیشتر تعلیمی ادارے پرائمری ایجوکیشن تک ہیں لیکن بعض مقامات پر آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے اور اب حالیہ کٹوتی سے مڈل تک تعلیم کے منصوبے متاثر ہوں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسی صورت حال نہیں ہے کیونکہ جو 40 فیصد فنڈز انھیں ملے ہیں ان سے یہ منصوبے جاری رہ سکتے ہیں اور اگر دیگر ممالک امداد جاری رکھتے ہیں تو پھر یہ منصوبے بھی جاری رہ سکتے ہیں۔







