’حکومت ٹیکس لگائے یا چیزیں مہنگی کرے‘

- مصنف, تابندہ کوکب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں وفاقی کابینہ نے مالی سال 2016 - 2017 کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے اور اسے تین جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
ہر سال بجٹ کی آمد پر جہاں عوام کے دلوں میں مہنگائی اور ٹیکسوں کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں وہیں تاجر بھی اس پریشانی سے آزاد نہیں ہیں۔
* <link type="page"><caption> معیشت کی ڈوبتی کشتی سنبھل گئی ہے: اسحاق ڈار کا دعویٰ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150605_budget_2015_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
تاجروں کا کہنا ہے کہ ہر سال بجٹ سے پہلے یہی خدشہ رہتا ہے کہ اُن کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے یا کمی سے ان کے کاروبار پر فرق پڑے گا وہیں انھیں ٹیکسوں میں اضافے کا بھی ڈر رہتا ہے۔
لوہے کا کام کرنے والے مجاہد حسین چاہتے ہیں کہ بجٹ میں لوہے کے قیمت زیادہ نہ بڑھے کیونکہ ’اگر لوہا مہنگا ہو جاتا ہے تو لوگ کام نہیں کرواتے اور ہمارا کاروبار بھی نہیں چلتا۔‘
تاہم ساتھ ہی وہ یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ حکومت لوہے کی قیمتوں میں بہت زیادہ کمی نہیں کرے گی۔

کیونکہ ان کے بقول پچھلے بجٹ میں لوہا مہنگا ہوا تھا اور اگر اس مرتبہ سستا ہو گیا تو اُن کے پہلے سے خریدے ہوئے مال میں بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔
محمد عمران بیکری کا کاروبار کرتے ہیں وہ ابھی سے یقین کیے بیٹھے ہیں کہ اس بار بھی بجٹ آنے پر مہنگائی میں اضافہ ہی ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں ’گھی ، چینی ، میدہ جیسے تمام اجزا مہنگے ہوتے ہیں جو ہمارے کاروبار کا لازمی حصہ ہیں۔ اور یہ یہی چیزیں عام آدمی کے گھر بھی استعمال ہوتی ہیں۔
’ہم تو کہتے ہیں حکومت کو اِن گھریلو استعمال کی چیزوں پر سبسڈی دینی چاہیے۔ یا تو حکومت ٹیکس لگائے یا چیزیں مہنگی کرے۔ لیکن ہر بار دونوں کام ہو جاتے ہیں۔‘
محمد شفیق موبائل فونز کا کاروبار کرتے ہیں وہ اس لیے مطمئن ہیں کیونکہ ان کے بقول موبائل اور الیکٹرونکس کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور ان کی فروخت بھی بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پچھلے سال 18ہزار میں ملنے والا موبائل اب 15 ہزار میں مل رہا ہے اور اسی طرح دیگر الیکٹرونکس کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس سال بھی حکومت الیکٹرونکس پر کوئی ٹیکس نہیں لگائے گی۔‘
سیمنٹ کا کاروبار کرنے والے راجہ حمیدامید رکھتے ہیں کہ اس بجٹ میں بھی سیمنٹ کی قیمتوں میں کمی ہوگی کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ’اس طرح سیمنٹ کی فروخت زیادہ ہوگی اور منافعے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق ملک میں تعمیراتی کام میں اضافہ ہوا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باعث سامان کی ترسیل آسان ہوئی ہے۔
ارشاد حسین شاہ اسلام آباد میں ٹرانسپورٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے بجٹ میں اگر پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ نہ ہوا تو پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے برقرار رہیں گے اور اس سے گاڑیوں کے مالکان کو کافی نقصان ہو گا۔

کرایوں میں اضافے سے عوام بھی تو نالاں ہوتی ہے اس پر ارشاد حسین کا کہنا تھا ’کرائے کون سا آٹھ یا دس روپے بڑھائے جاتے ہیں ایک روپیہ یا دو روپے ہی بڑھتے ہیں اس سے عوام کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
ارشاد حسین کا کہنا تھا ’پٹرول سستا ہو جاتا ہے لیکن گاڑی کی دوسری ضروریات، ڈسکیں، ٹائر اور دیگر چیزیں سستی نہیں ہوتیں۔ ہم انھی پیسوں میں گاڑی کی مرمت بھی کرواتے ہیں۔‘
بجٹ منافعے کا ہو یا خسارے کا، بجٹ کے بعد اکثر لوگوں کو شکوہ کناں ہی دیکھا گیا ہے۔ حکومت ہر بار کہتی ہے کہ بجٹ غریب دوست ہے لیکن تاجروں کا سوال ہے کہ کیا اس بار بجٹ کاروباری افراد کا بھی دوست ہوگا یا نہیں۔







