’بجٹ پر غلط رپورٹنگ ہوئی، یہ غریب دوست ہے‘

بجٹ غریب دوست ہے، ٹیکس امیروں پر لگائے ہیں: اسحاق ڈار

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبجٹ غریب دوست ہے، ٹیکس امیروں پر لگائے ہیں: اسحاق ڈار

پاکستان کے وزیرِ خزانہ احاق ڈار نے کہا ہے کہ جمعے کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے کچھ حلقوں میں غلط رپورٹنگ ہوئی۔

سنیچر کی سہ پہر نے دارالحکومت اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ہائی سپیڈ، فرنس آئل پر پہلے سے آر ڈی یعنی ریگولیٹری ڈیوٹی لگی ہوئی ہے اس میں اضافہ نہیں کیا گیا صرف ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سیمنٹ انڈسٹری پر لگائی جانے والی کسٹم ڈیوٹی کا مقامی قیمت پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دودھ دھی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ دھی اور پنیر پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔

’جو شخص بند ڈبے کی 90 روپے کی دھی کھا سکتا ہے وہ دو چار روپے خزانے میں بھی جمع کروا سکتا ہے۔‘

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ موبائل فون مہنگے نہیں کیے گئے۔ ’ستر ہزار کے فون پر تین سو حکومتِ پاکستان کو دے دیں تو مہربانی ہو گی۔‘

انھوں نے اس غلط فہمی کو بھی دور کیا کہ کم سے کم پینشن کو بڑھایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی علاقےگلگت بلتستان میں گندم پر سبسڈی ختم کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

’غریبوں کے لیے کچھ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC urdu

وزیرخزانہ نے کہا کہ بجٹ غریب دوست ہے اگر کوئی بوجھ ڈالا گیا ہے تو وہ امیر طبقے اور صاحبِ حیثیت افراد پر ڈالا گیا ہے۔

اس موقع پر انھوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام فنڈ میں اضافے ، بیت المال فنڈ کو دگنّا کرنے، چار سے پانچ لاکھ والے تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں پر لگنے والے ٹیکس میں تین فیصد تک کمی، 2001 کے بعد کے شہدا کی بیواؤں کا 10 لاکھ تک کا قرض حکومت کی جانب سے ادا کرنے، وزیراعظم یوتھ پروگرام اور کسانوں کے لیے سولر ٹیوب ویل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ کس کے لیے ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی قیمت میں پانچ فیصد اضافہ ہوا اور یہ انڈسٹری سے پوچھ کر ہوا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ملکی معیشت کی شرح نمو میں اضافہ اور روز گار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق اس سلسلے میں تعمیراتی شعبے، مینوفیکچرنگ اور زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور 20 لاکھ تک روزگار کےمواقع پیدا ہوں گے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے اور جو ٹیکس دیتے ہیں ان کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔

اسی لیے جب بھی ٹیکس نہ ادا کرنے والے بینک کی سروس حاصل کریں گے تو انھیں ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو ساڑھے سات فیصد ایڈہاک ریلیف فراہم کیا گیا ہے تاہم بنیادی تنخواہوں اور میڈیکل الاؤنس میں دوایڈہاک ریلیف کے انضمام سے تنخواہوں میں مجموعی طور پر 11 سے 15 فیصد اضافہ ہوگا۔

وزیرِ خزانہ نے ٹیکسوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے تو پیسے دینے ہیں ورنہ آخری حل ادھار ہوتا ہے مگر نواز شریف کی حکومت کشکول پر یقین نہیں رکھتی۔

پی ٹی آئی کے شیڈو بجٹ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی پہلے شیڈو بجٹ دیتی تو اچھا تھا تاہم بجٹ اجلاس کے اختتام تک جو بھی تجویز آئے گی اسے دیکھا جائے گا۔