وفاقی بجٹ: کاشتکاروں کے لیے مراعات کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی وفاقی حکومت نے زرعی آمدن میں اضافے کے لیے کاشتکاروں کے لیے بعض مراعات کا بھی اعلان کیا ہے جن میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کے لیے کسانوں کو بلا سود قرضے شامل ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ زرعی شعبے کے لیے دی جانےوالی ان مراعات کے ذریعے حکومت زرعی پیدوار میں اضافے کی کوشش کر رہی ہے جو اس وقت ملکی مجموعی پیدوار کا بیس فیصد بنتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وفاقی حکومت نے معیشت کی ترقی کی رفتار یا جی ڈی پی میں اضافے کے لیے جو ہدف مقرر کیا ہے وہ زرعی شعبے کی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور شائد اسی نکتہ نظر سے حکومت نے زرعی شعبے کے لیے مراعات کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے آئندہ تین برسوں میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح سات فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت نے چھوٹے کاشتکاروں کو ٹیوب ویل چلانے کے لیے بجلی اور ڈیزل کے خرچے سے بچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل لگانے کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہepa
وزیر خزانہ کے مطابق شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کی مالیت 11 لاکھ روپے ہے۔ کسان اس قیمت کا ایک لاکھ روپے یکمشت ادا کرے گا جبکہ باقی 10 لاکھ روپے حکومت ادا کرے گی جو کسان آسان اقساط میں حکومت کو لوٹائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس قرضے پر سود کی رقم حکومت بینک کو ادا کرے گی۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس سکیم کے تحت آئندہ تین برسوں میں 30 ہزار ٹیوب ویلز لگائے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کسانوں کو دیے جانے والے زرعی قرضوں کی مقدار بھی 500 ارب روپے سے بڑھا کر 600 ارب روپے کرنے کا اعلان کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر خزانہ نے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے سرکاری ضمانت پر ایک لاکھ روپے کی قرضہ اسکیم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت پانچ ایکڑ نہری اور دس ایکڑ بارانی زمین رکھنے والے تین لاکھ کاشتکاروں کو ایک لاکھ روپے فی کس قرض دیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کسانوں کے لیے فصل اور مویشیوں کی انشورنس سکیموں کا بھی اعلان کیا۔







