’ترقیاتی بجٹ شیر شاہ سوری کی یاد دلا رہا ہے‘

- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد مسلم لیگ نواز کی حکومت نے مالی سال 2015-2016 کے لیے بجٹ کا اعلان کیا ہے۔
تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی وفاقی بجٹ تقریر کے دوران میں قومی اسمبلی کے ہال میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی آواز ہی گونجتی رہی۔ نہ تو ڈیسک بجے اور نہ ہی کسی نے نعرے بازی کی لیکن بجٹ کے اختتام پر جب اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اپنے خدشات کا اظہار کرنے کی کوشش کی تو لائیو ٹرانسمیشن کو بند کر دیا گیا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کیے جانے والے تیسرے بجٹ پر سیاسی جماعتوں اور کاروباری طبقے نے ملے جلے رحجان کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر نوید قمر نے بجٹ کی تقریر کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام ریلیف کی منتظر تھی لیکن ٹیکس اور مہنگائی کی خبریں ملیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ اگلے سال مہنگائی شرح چھ سے سات فیصد تک ہو جائے گی۔
پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں زرعی شعبے کو نظر انداز کیا گیا ہے اور کسانوں کے مطالبات پورے نہیں ہوتے۔’ان کی پچھلے دو سال سے ڈیمانڈز تھیں کہ کھادوں اور کیڑے مار ادویات اور دیگر چیزوں پر عائد ٹیکس کو کم کیا جائے لیکن انھیں پورا نہیں کیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت میں ملک گندم برآمد کرتا تھا لیکن اب کسان سوچ رہے ہیں کہ وہ گندم بوئیں بھی یا نہیں۔‘
دفاعی بجٹ پر میں 11 فیصد اضافے پر انھوں نے کہا کہ ’ آپریشن ضربِ عضب چل رہا ہے اور مشرقی سرحد پر بھی صورتحال خراب ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایم کیو ایم کے ممبر قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا کہ یہ روایتی بجٹ تھا۔ موجودہ بجٹ معیشت اور عوام دوست نہیں ہے۔ انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کا کوئی ہدف پورا نہیں ہوا۔ برآمدات کم ہوئی ہے اور تجارتی خسارا بڑھا۔
انھوں نے اپنی تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں کو کو کم کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ بجٹ میں دیگر شعبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
شاہراؤں کی تعمیراتی منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ’شیر شاہ سوری کے زمانے کی یاد آرہی ہے کہ ہائی ویز پر زیادہ ترقیاتی بجٹ مختص کیا جا رہا ہے۔‘
ایم کیو ایم نے نوجوان طبقے کی ترقی کے لیے حکومتی پالیسی تسلی بخش نہیں۔ انھوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ سے آپ مزید بھکاری پیدا کر رہے ہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر افتخار بابر نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ بظاہر موجودہ بجٹ اچھا ہے اور اس میں کیے جانے والے اعلانات مثبت دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ جب تک حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ جاری نہیں ہوتا وہ اصل معنوں میں بجٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ اس دستاویز کی مدد سے وہ حکومت کی ٹیکسشن پالسیی کی سمت کا اندازہ لگا پائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ وہ نئے ٹیکس لگائے مگر پہلے سے موجود ٹیکس بڑھا کر صارفین پر بوجھ نہ ڈالے۔







