’سیاسی عدم استحکام، اقتصادی ترقی کا ہدف پورا نہ ہو سکا‘

وزیر خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل اور اجناس کی قیمتوں میں کمی بھی اقتصادی ترقی پر اثرانداز ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوزیر خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل اور اجناس کی قیمتوں میں کمی بھی اقتصادی ترقی پر اثرانداز ہوئی ہے
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران سیاسی عدم استحکام اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اقتصادی ترقی کا پانچ فیصد کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا ہے اور اقتصادی شرح نمو 4.2 فیصد رہی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو اسلام آباد میں اقتصادی جائزہ رپورٹ 2014-2015 جاری کی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ رواں مالی سال پاکستان کی معشیت نے 4.2 فیصد کی شرح سے ترقی ہے جو ہدف سے تو کم ہے لیکن گذشتہ سات برس میں اقتصادی ترقی کی بلند ترین سطح ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل اور اجناس کی قیمتوں میں کمی بھی اقتصادی ترقی پر اثرانداز ہوئی ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح 2.5 فیصد رہی جبکہ گذشتہ سال صنعتوں میں ترقی کی شرح 4.6 فیصد رہی تھی۔

زرعی شعبے نے 2.88 فیصد کی شرح سے ترقی کی جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.95 فیصد رہی ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی موجودہ افرادی قوت چھ کروڑ افراد سے ہے لیکن میں بے روزگاری کی شرح 6 فیصد ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یکم جولائی 2014 سے شروع ہونے والے مالی سال کے دوران نجی شعبے نے بینکوں سے بہت کم قرض لیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ’حکومت اس بات کا جائزہ لی رہی ہے کہ حکومتی اقدامات کے باوجود نجی شعبے کی جانب سے قرض کا حجم کیوں کم ہو رہا ہے جبکہ شرح سود بھی کم ہوئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ رواں سال برآمدات میں تین فیصد کمی ہوئی ہے اور مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران 20 ارب 18 کروڑ ڈالر کی برآمدات کی گئی جبکہ اس دوران درآمدات کا حجم 34 ارب ڈالر رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے ہیں اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہے۔انھوں نے اخراجات اور آمدن میں خسارہ پانچ فیصد تک متوقع ہے۔

انھوں نے کہا پاکستان کی فی کس آمدنی ایک ہزار پانچ سو 13 ڈالر ہو گئی ہے اور ملک میں مہنگائی کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔

وزیر خزانے نے بتایا کہ انکم سپورٹ پروگرام کے تحت حکومت تقریباً تین کروڑ افراد کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

اقتصادی سروے کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو دہشت گردی کی وجہ سے ساڑھے چار ارب ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے جبکہ 2001- 20015 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو 107 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔