قرضوں پر سود، ترقیاتی بجٹ سے زیادہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا ہدف 700 ارب روپے مقرر کیا ہے لیکن اندورنی اور بیرونی قرضوں پر شرح سود کی ادائیگی کے لیے 1279 ارب روپے مخیص کیے گئے ہیں۔

رواں مالی سال کے دوران قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے لیے 1325 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق پاکستان پر ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 16936.5 ارپ روپے ہے۔

بجٹ کے دستاویز کے مطابق اس قرضے میں ملکی قرضوں کا حجم 11932 روپے جبکہ بیرونی قرضے 5004 ارب روپے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق مالی سال 16- 2015 میں حکومت پاکستان کو ان قرضوں پر 1279.895 ارب روپے سود دینے ہوں گے۔

آئندہ مالی سال ملکی قرضوں پر سود کی ادئیگی کی مد میں 1168 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ غیر ملکی قرضوں پر 111 ارب روپے کا سود ادا کرنا ہو گا۔

یاد رہے کہ پچھلے مالی سال میں پاکستان نے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر 1325 ارب روپے سود دیا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں پر سود میں کمی ڈالر کے مقابلے میں پاکستان کی قدر مستحکم ہونے کے باعث ہوئی ہے۔

پاکستان کے مجموعی قرضوں کا حجم خام ملکی پیدوار 62 فیصد ہیں جبکہ قانون کے تحت حکومت جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زائد قرضہ نہیں لے سکتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق خام ملکی پیداوار کے مقابلے میں اندرونی قرضوں کی شرح 43.6 فیصد ہے جبکہ بیرونی قرضوں کی یہ شرح 18.3 فیصد ہے۔