حکومتی اعتراضات، اعتزاز کے جوابات

،تصویر کا ذریعہAFP
پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے حزب اختلاف کی طرف سے پیش کردہ ضابطہ کار پر حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف جب خود کو احتساب کے لیے پیش کر چکے ہیں تو حکومت کو حزب اختلاف کی طرف سے پہلے ان کے احتساب پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
تمام حکومتی اعتراضات کے جواب دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ اویلین ذمہ داری نواز شریف کی ہے کیونکہ وہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی طرف سے مشترکہ طور پر وضع کردہ ضابطہ کار میں وزیر اعظم اور دیگر افراد کے درمیان کوئی تمیز نہیں کی گئی اور ان تمام افراد کو جنہیں الزامات کا سامنا ہے اپنے اثاثوں کا اعلان کرنا پڑے گا۔ فرق صرف یہ ہے کہ ابتدا وزیر اعظم سے ہونی چاہیے اور قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے ایسا کرنے کے لیے خود کو پیش کیا تھا۔
حکومت کی طرف سے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر قانون زاہد حامد نے حزب اختلاف کی ٹی او آرز کو غیر آئینی قرار دیا تھا کیونکہ ان ٹی او آرز میں اپنے آپ کو معصوم یا بے گناہ ثابت کرنے کی ذمہ داری الزام کا سامنا کرنے والے پر عائد کی گئی ہے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ دنیا بھر میں بدعنوانی اور کرپشن کی تحقیقات میں یہ اصول اپنایا جاتا ہے کہ جب کوئی جائیداد اور اثاثہ کسی شخص کے نام ثابت ہو جائے یا کوئی شخص اس کی ملکیت قبول کر لے تو پھر یہ ذمہ داری کہ یہ جائز طریقے اور وسائل سے حاصل کیا گیا ہے اس شخص پر عائد ہوتی ہے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ 1997 کے قانون میں، جو نواز شریف حکومت نے خود منظور کیا گیا تھا، اسی اصول کو بنیاد بنایا گیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ اسفندیار ولی کے کیس میں سپریم کورٹ نے یہ اصول تسلیم کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ کرپشن کو ختم کرنے سے متعلق تمام قوانین کا اطلاق ماضی سے ہونا چاہیے کیونکہ ان کا مقصد کرپشن ختم کرنا ہوتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے یاد دلایا کہ نیب آرڈیننس جس میں مسلم لیگ کی حکومت اپنی دو تھائی اکثریت کی بدولت دو ترامیم بھی کر چکی ہے اس کا اطلاق سنہ 1985 سے ہوتا ہے۔
اپوزیش کے مشترکہ اجلاس کی میزبانی کرنے والے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ جن لوگوں کا بھی نام آیا ہے ان کو ہر سال کے اثاثے اور انکم ٹیکس ادائیگوں کی تفصیل فراہم کرنی چاہیے اور وزیر اعظم کو اس بارے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
حکومت کی طرف سے اس اعتراض پر کہ پاناما پیپرز میں نواز شریف کا نام نہیں ہے تو پھر ان کے خلاف انکوائری کیوں ہونی چاہیے، اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم خود اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کر چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے صابطہ کار میں جن لوگوں کے پاناما پیپرز میں نام آئے ہیں ان کے والدین، شریک حیات، بچوں اور پوتے پوتیوں کے اثاثوں کو سامنے لانے کی بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حسین نواز سمندر پار اثاثوں اور آف شور کمپنیوں کا اعتراف کرتے ہیں تو پھر وہ بھی اسی فہرست میں آتے ہیں۔
اس ضمن میں اعتزاز احسن نے سنہ 2012 کے چوہدری نثار علی خان کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ نواز شریف گذشتہ 18 برس سے میے فیئر کے اپارٹمنٹس کی ملکیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2000 میں گارڈین اخبار کو دیے گئے کلثوم نواز کے ایک انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ کیونکہ ان کے بچے لندن میں زیر تعلیم ہیں اس لیے یہ اپارٹمنٹ خریدے گئے ہیں۔
زاہد حامد اور چوہدری نثار کے اس بیان پر کہ جو لوگ ٹیکس چوری کرتے رہے ہیں وہ زیادہ شور مچا رہے ہیں اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر اعظم بتائیں کہ جس دور میں یہ جائیداد خریدی ان برسوں میں نواز شریف نے کتنا ٹیکس ادا کیا۔







