’اپوزیشن حکومت سے لڑائی کے موڈ میں نہیں ہے‘

 خورشید شاہ نے ایک صفحے پر مشتمل خط وزیراعظم کو لکھا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن خورشید شاہ نے ایک صفحے پر مشتمل خط وزیراعظم کو لکھا ہے

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے بارے میں ’حکومت سے لڑائی کے موڈ میں نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ضابطۂ کار کے بارے میں اپوزیشن کا موقف لچکدار ہے اور حکومت کسی بھی ناقابل عمل پیرے کی نشاندہی کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے متفقہ ضابطۂ کار وزیرِاعظم نواز شریف کو بھیج دیے گئے ہیں اور ان سے خط کا جواب بھی مانگا ہے۔

خیال رہے کہ یہ وہی ضوابطِ کار ہیں جنھیں بدھ کو وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد نے ایک پریس کانفرنس میں رد کرتے ہوئے بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاناما لیکس کے ذریعے جو انکشافات ہوئے ہیں صرف ان کو ایڈریس کیا ہے۔‘

قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ انھیں امید ہے جب حکومت کو ان کا خط ملے گا تو وہ اس پر پوری توجہ دے گی اور یہ نہ صرف حکومت بلکہ سسٹم کے لیے بھی بہتر ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اپوزیشن لڑائی کے موڈ میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک ’پراپر‘ راستہ اختیار کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کا آغاز وزیراعظم سے کرنے کی بات اس لیے کی گئی کیونکہ وہ ملک کے چیف ایگزیکیٹو ہیں اور ان پر الزامات اپوزیشن نے نہیں لگائے بلکہ عالمی میڈیا میں لگائے گئے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ انھیں وضاحت کا موقع دیا ہے۔

خورشید شاہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق اپوزیشن کے ضابط کار میں ہدف صرف وزیراعظم ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر قانون کے مطابق اپوزیشن کے ضابط کار میں ہدف صرف وزیراعظم ہیں

نامہ نگار عنبر شمسی کے مطابق جمعرات کو قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے وزیرِ اعظم کو جو ایک صفحے پر مشتمل خط لکھا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ کار پر حزبِ مخالف کی جماعتوں نے تین مئی 2016 کو اتفاق کیا تھا اور اب اس پر حکومتی ردِعمل کا انتظار ہے۔

حزب اختلاف کی نو جماعتوں نے عدالتی کمیشن کے لیے 15 ضوابطِ کار متفقہ طور پر منظور کیے تھے جن میں وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ شامل نہیں تھا۔

ان ضوابط کار میں کمیشن سے سب سے پہلے تین ماہ کی مدت میں وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاناما لیکس میں جن دیگر افراد کے نام سامنے آئے ہیں ان کا احتساب بھی ہونا چاہیے اور تمام تحقیقات ایک سال میں مکمل ہونی چاہییں۔

اس ضابطۂ کار کے مطابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو سنہ 1985 سے اب تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات پیش کرنا ہوں گی اور انھیں اور ان کے اہل خانہ کو خود پر لگے الزامات کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ قانون زاہد حامد اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی نے اپوزیشن کے ضابطۂ کار کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’غیر آئینی، غیر مناسب اور بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا تھا۔

پریس کانفرنس میں وفاقی وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ’اپوزیشن کے ضابطہ کار کو پڑھ کر سخت مایوسی ہوئی کیونکہ اس کے مندرجات اور جو الفاظ استعمال کیےگئے، اس سے اپوزیشن کی بدنیتی صاف ظاہر ہوتی ہے۔‘

انھوں نے ضابطہ کار کے نکات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس میں جو سب سے زیادہ بدنیتی ظاہر ہوتی ہے کہ ان کی تمام طرح اور مکمل توجہ وزیراعظم کی ذات پر ہے۔‘

اس کے ساتھ دونوں وزرا نے واضح کیا تھا کہ حزبِ مخالف کی ’بدنیتی‘ کے باوجود بات چیت کے دورازے کھلے ہیں۔