مہلت کا خاتمہ، چھوٹو گینگ کے خلاف’فیصلہ کن کارروائی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے میں جرائم پیشہ گروہ چھوٹو گینگ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی جاری ہے اور ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مہلت کے خاتمے کے بعد پاکستانی فوج نے ’باقاعدہ آپریشن‘ کا آغاز کر دیا ہے۔
عسکری ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ منگل کو اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے راجن پور میں تعینات ایک عسکری اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھوٹو گینگ کو پیر کی دوپہر دو بجے تک ہتھیار ڈالنے کے لیے مہلت دی گئی تھی اور مہلت گزر جانے کے بعد ’فیصلہ کن کارروائی‘ کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
روئٹرز کے مطابق دریائے سندھ میں کچے کے علاقے میں واقع دس کلومیٹر طویل جزیرے پر آپریشن کے آغاز کے بعد سکیورٹی فورسز اور گینگ کے ارکان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جبکہ گینگ کے ٹھکانوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق کچہ جمال کے علاقے میں پمفلٹ بھی پھینکے گئے ہیں جن میں چھوٹو گینگ کے سرغنہ اور ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ مغوی پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیں اور ہتھیار ڈال دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رحیم یار خان کے ڈی پی او محمد عرفان نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ فوج اور رینجرز کے اہلکار ہی اس آپریشن میں شریک ہیں اور پولیس ان سے تین کلومیٹر پیچھے ’کومبنگ آپریشن‘ میں مصروف ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کے مطابق پولیس نے ارد گرد کا علاقہ سیل کیا ہے اور ’ کچھ دیہات پولیس نے خالی کروائے ہیں جبکہ کچھ سے لوگ رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کر گئے ہیں۔‘
پیر کو ملتان کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم نے بھی کچے کے علاقے کا دورہ کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈر ملتان نے علاقے میں موجود فوجیوں کی آپریشنل تیاری کا جائزہ بھی لیا تھا۔
چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کا آغاز تقریباً دو ہفتے قبل ہوا تھا اور اس دوران سات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور 24 کو یرغمال بنائے جانے کے بعد اس آپریشن کی کمان پاکستانی فوج نے سنبھال لی ہے جسے پولیس اور رینجرز کی مدد حاصل ہے۔
کچہ جمال میں چھپے چھوٹو گینگ کے ارکان کے خلاف گھیرا مسلسل تنگ کیا جا رہا ہے اور کارروائی میں فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز بھی شریک ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق آپریشن کے تناظر میں راجن پور کے ضلعی رابطہ افسر نے تمام سرکاری افسران کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے انھیں ڈیوٹی پر موجود رہنے کا حکم دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پیر کی دوپہر تک مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے چھوٹو گینگ اور حکام کے درمیان مذاکرات کیے جا رہے تھے تاہم اس بات چیت کے بارے میں نہ تو پنجاب حکومت اور نہ ہی فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ کچھ بتانے کو تیار تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان مذاکرات میں چھوٹو گینگ کی طرف سے کیا شرائط پیش کی گئی ہیں ان کے بارے میں تفصیلات بتانا تو کجا حکومتی اہلکار یہ تک بتانے کو تیار نہیں ہیں کہ مذاکرات کس سطح پر کیے جا رہے اور کون کر رہا ہے۔
آپریشن کے آغاز کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کو مزید سخت کیا گیا ہے اور سندھ اورپنجاب کی سرحد پر اور جنوبی پنجاب میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی چوکیوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔
پولیس اور فوج کی جانب جاری کیے جانے والے بیانات میں بار بار اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ چھوٹو گینگ کے خلاف کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
چھوٹو گینگ میں شامل جرائم پیشہ افراد کی تعداد 150 سے 200 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور پولیس اس سے قبل بھی کئی بار چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کر چکی ہے جو کامیاب نہیں ہو سکے۔







