پنجاب آپریشن: ’تین خواتین شدت پسند گرفتار‘

لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن کے گلشن اقبال پارک میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد پنجاب بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنلاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن کے گلشن اقبال پارک میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد پنجاب بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا
    • مصنف, صبا اعتزاز
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق اس کے اہلکاروں نے سرگودھا شہر میں کارروائی کے دوران تین مبینہ شدت پسند خواتین کو حراست میں لے لیا ہے۔

مبینہ دہشت گردوں کے نام عاصمہ جبین، خولہ مختار اور عبیرہ مختار بتائے گئے ہیں۔

* <link type="page"><caption> ’پنجابی طالبان کو گُڈ طالبان سمجھا جاتا ہے‘ </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/03/160329_hassan_abbas_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران دو خود کش جیکٹیں اور تین ہینڈ گرینیڈ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کے جاری کردہ بیان کے مطابق سرگودھا میں یہ کارروائی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پیر کی صبح کی گئی۔

کارروائی کے دوران دو مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی جس پر پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی، تاہم ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

بیان کے مطابق تفتیش کے دوران خواتین دہشت گردوں نے فائرنگ کرنے والے دہشت گردوں کی مختار احمد اور عمر مختار کے نام سے شناخت کی۔

مبینہ دہشت گردوں کے نام عاصمہ جبین، خولہ مختار اور عبیرہ مختار بتائے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمبینہ دہشت گردوں کے نام عاصمہ جبین، خولہ مختار اور عبیرہ مختار بتائے جا رہے ہیں

یاد رہے کہ 27 مارچ کو لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن کے گلشن اقبال پارک میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد پنجاب بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی پولیس اہلکاروں کو فوج اور رینجرز کا تعاون حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ضرب عضب‘ کے باعث دہشت گرد روجہان کے دور دراز علاقوں اور رحیم یار خان کے کچے کے علاقوں میں روپوش ہو رہے ہیں۔

واضع رہے کہ گذشتہ ہفتے سے پنجاب کے ضلع راجن پور میں مبینہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مشترکہ کارروائی جاری رہی جس میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کے علاوہ مقامی پولیس اور رینجرز بھی شامل تھے۔