پنجاب میں دہشتگردوں کےسو مبینہ سہولت کار گرفتار
صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں فوج کی معاونت سے شروع ہونے والے آپریشن میں گذشتہ پانچ دنوں میں دہشت گردوں کے سو سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پنجاب پولیس کی طرف سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق گرفتار کیے جانے والے شدت پسندوں کے مبینہ سہولت کاروں میں سے چار زخمی بھی ہیں۔
پنجاب پولیس کے مطابق یہ آپریشن اس وقت ڈیرہ غازی خان کے ریجن میں کیا جا رہا ہے جس میں پولیس، ایلیٹ کمانڈوز اور پنجاب رینجرز حصہ لے رہے ہیں اور انھیں پاکستان فوج کا تعاون بھی حاصل ہے۔
ڈیرہ غازی خان ریجن میں جاری آپریشن میں سولہ سو سکیورٹی اہلکلاروں کی مدد سے کارروائی کی جا رہی ہے۔
پنجاب میں فوج نے یہ آپریشن گزشتہ دنوں لاہور کے اقبال پارک میں خودکش حملے میں ستر افراد کی ہلاکت کے بعد شروع کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس کارروائی کے بارے میں پاکستان فوج کی جگہ پنجاب پولیس کی جانب سے تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق اس علاقے میں شدت پسندوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے جو جدید اسلحے سے لیس ہیں۔
اس کارروائی کے دوران صوبہ سندھ اور بلوچستان سے ملنے والی سرحد کی سخت ناکہ بندی کے علاوہ عارضی پولیس چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔
دریائی راستوں کی بھی ناکہ بندی کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقے میں جاری اس کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
فوج کی بجائے پنجاب پولیس کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کارروائی کی سربراہی صوبائی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔
اس سے قبل اس بابت سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی گردش میں تھیں۔
ادھر راولپنڈی میں بدھ کو فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی صدارت میں کور کمانڈز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں شمالی وزیرستان کے شوال کے علاقے میں جاری عسکری کارروائی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ایک فوجی بیان کے مطابق اجلاس کو پاکستان میں غیرملکی خفیہ اجنیسیوں کی سرگرمیوں اور اس کے جواب میں کی جانے والی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اجلاس نے اس ارداے کا اظہار کیا کہ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کو روکا جائے گا۔
فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں ملک بھر میں فوجی کارروائیوں کا ذکر تو ہے لیکن پنجاب کا خصوصی ذکر نہیں۔







