راجن پور آپریشن میں ’فوج نے چارج سنبھال لیا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پور میں جرائم پیشہ گروہ چھوٹو گینگ کے خلاف جاری آپریشن میں کچے کے علاقے میں فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں اور فوج نے آپریشن کا چارج سنبھال لیا ہے۔
سنیچر کو پاکستان فوج کی جانب سے جاری کردی بیان کے مطابق علاقے کا محاصر کر لیا گیا ہے اور فوج کی زیرقیادت پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کی مکمل ہونے تک جس قسم کے بھی وسائل کی ضرورت ہوگی وہ مہیا کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آپریشن کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ پنجاب پولیس چھوٹو گینگ کے خلاف کئی دنوں سے کارروائیاں کر رہی ہے اور اس آپریشن میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد پاکستانی فوج کے دستوں نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
اس سے قبل ذرائع نے بی بی سی کے نامہ نگار رضا ہمدانی کو بتایا تھا کہ ’گن شپ ہیلی کاپٹرز شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کر رہے ہیں اور اس وقت 24 پولیس اہلکاروں کو رہا کرانے کے حوالے سے مذاکرات نہیں کیے جا رہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اس آپریشن میں 1,500 فوجی، 3,00 رینجز اور 1,600 پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔‘
’آپریشن کی تیاریوں اور اس کے آغاز سے قبل ہی مقامی آبادی کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپریشن کے آغاز پر شدت پسند مقامی آبادی میں گھل مل کر بھاگنے کی کوشش نہ کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
واضع رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے راجن پور کے کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن تقریباً دو ہفتے سے جاری ہے جس میں اب تک چھے پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 24 اہلکاروں کو گینگ یرغمال بنا چکا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس آپر یشن کے دوران پولیس کی جانب سے چھوٹو گینگ کے ڈپٹی کمانڈر سمیت پہلوان عرف پلو ایک رنگ لیڈر علی گلباز گیر سمیت سات افراد مارے گئے اور کئی زخمی ہیں۔
واضح رہے کہ دریائے سندھ میں سنہ 2010 کے سیلاب کے بعد بننے والے ایک جزیرے پر، جسے چھوٹو گینگ کی نسبت سے ’چھوٹو جزیرہ‘ کہا جاتا ہے، پناہ لیے ہوئے ڈاکوؤں کے خلاف پنجاب پولیس پہلے بھی کئی بار ناکام آپریشن کر چکی ہے۔
تقریباً چھ ماہ قبل بھی پولیس نے اس علاقے میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن کیا تھا۔







