جنوبی پنجاب میں آپریشن، ’چھ اہلکار ہلاک، 24 یرغمال‘

آپریشن کے باعث علاقے میں موبائل فون سروس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآپریشن کے باعث علاقے میں موبائل فون سروس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے (فائل فوٹو)
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن میں اب تک چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ 24 اہلکاروں کو چھوٹو گینگ نے یرغمال بنا رکھا ہے جبکہ چار زخمی اہلکاروں کو پولیس کے سپرد کیا گیا ہے۔

راجن پور، رحیم یار خان اور کشمور کے آس پاس کے کچے کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کا مشترکہ آپریشن گذشتہ کئی روز سے جاری ہے۔

پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں اب تک سات ڈاکو مارے گئے ہیں جبکہ آٹھ زخمی ہیں۔

اس آپر یشن کے دوران پولیس کی جانب سے چھوٹو گینگ کے ڈپٹی کمانڈر سمیت پہلوان عرف پلو ایک رنگ لیڈر علی گلباز گیر سمیت سات افراد مارے گئے اور کئی زخمی ہیں۔ تاہم ابھی تک سکیورٹی فورسز کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

پنجاب پولیس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یرغمال کیے گئے اہلکاروں میں کتنے پولیس سے تعلق رکھتے ہیں اور کتنے رینجرز سے اس کا تعین کرنا فی الوقت مشکل ہے۔ تاہم مقامی قبائل کے ذریعے چھوٹو گینگ سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں تاکہ یرغمال اہلکاروں کو بازیاب کروایا جا سکے۔‘

اس آپریشن میں پولیس کے 1600 جوان جبکہ رینجرز اور ایلیٹ فورس کے 300 اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

دریائے سندھ میں سنہ 2010 کے سیلاب کے بعد بننے والے ایک جزیرے پر، جسے چھوٹو گینگ کی نسبت سے ’چھوٹو جزیرہ‘ کہا جاتا ہے، پناہ لیے ہوئے ڈاکوؤں کے خلاف پنجاب پولیس پہلے بھی کئی بار ناکام آپریشن کر چکی ہے۔

جزیرے پر اور اس کے اردگرد کچے کے علاقے میں جنگل ہونے کی وجہ سے بھی اہلکاروں کو آپریشن میں دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ڈاکوؤں کی جانب سے شدید مزاحمت اور فائرنگ کے باعث پولیس کو پیش قدمی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

تاہم اس مرتبہ پولیس کے ساتھ رینجرز اور فوج کی معاونت بھی شامل ہے اور پولیس نے فوج سے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی مانگی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ چھوٹو گینگ کے خلاف فضائی کاروائی جلد شروع کر دی جائے گی۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو نے پولیس کو تنبیہ کی ہے وہ آپریشن ختم کر کے علاقے سے واپس چلے جائیں اور حراست میں لیے گئے ان کے ساتھیوں کو چھوڑ دیں ورنہ یرغمال بنائے گئے اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

 پولیس کے ساتھ رینجرز اور فوج کی معاونت بھی شامل ہے اور پولیس نے فوج سے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی مانگی ہے
،تصویر کا کیپشن پولیس کے ساتھ رینجرز اور فوج کی معاونت بھی شامل ہے اور پولیس نے فوج سے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی مانگی ہے

انگریزی روزنامے دی نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غلام رسول عرف چھوٹو نے ٹیلی فون پر روزنامے سے مختصر گفتگو کی جس میں اس نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ پولیس کے خلاف آخری سانس تک لڑنے کا عزم دہرایا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق غلام رسول عرف چھوٹو کا کہنا ہے کہ ’ہم دہشت گرد نہیں، نہ ہی ملک دشمن ہیں۔ ہم زمیندار ہیں اور اپنے گھر بار چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے۔ ہمیں جینے دیا جائے۔‘

پولیس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشن کی حکمت عملی میں تبدیلی کے لیے سکیورٹی اداروں کا اجلاس جاری ہے جس میں اہلکاروں کی ہلاکتوں اور یرغمال بنائے جانے کے بعد تبدیلی کی جائے گی۔

آپریشن کے باعث علاقے میں موبائل فون سروس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔