پاناما لیکس: وزیراعظم کے استعفے پر اپوزیشن میں اختلاف

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاناما لیکس کی معلومات سامنے آنے کے بعد حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق سے بھی ملاقات کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی اس معاملے پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے پر وہ وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کریں گے۔
تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے سینیٹر اعتزاز احسن، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا سے ملاقات کی اور وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
سینیٹ کی کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت پاناما پیپرز میں شائع ہونے والی معلومات کی تحقیقات ریٹائرڈ جج کے بجائے پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کروانا چاہتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی تحقیقات کروانے کے معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آف شور کمپنیوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے معلومات منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
پاکستان میں تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے ’سولو فلائٹ‘ کی بجائے تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ جس کے بعد تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرنے اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا ہدف دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شاہ محمود قریشی نے جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق سے بھی ملاقات کی۔
سراج الحق نے کہا کہ اس سے پہلے حکمران کی بدعنوانی کے معاملے کو سنی ان سنی کر دیا جاتا تھا لیکن اب پاناما پیرز کی معلومات افشا ہونے کے بعد پوری دنیا میں ڈھنڈورا پٹ گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کروائی جائے اور فورینسک ماہرین کی ٹیم اس کمیشن کی معاونت کرے۔
جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم نواز شریف مستعفی ہوں اور اس معاملے کی تحقیقات آزاد کمیشن سے کروائی جائیں۔







