پاناما لیکس سے متعلق درخواستیں کو یکجا کرنے کا حکم

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی سیاستدان پر الزامات ثابت ہوں تو انھیں نااہل قرار دیا جائے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندرخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی سیاستدان پر الزامات ثابت ہوں تو انھیں نااہل قرار دیا جائے
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور ہائیکورٹ نے پاناما لیکس کے انکشافات سے متعلق دائر کی گئی متعدد درخواستوں کو یکجا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کی سماعت کے لیے گیارہ اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں پانامہ لیکس میں وزیراعظم کے خاندان سے متعلق انکشافات پر پاکستان تحریک انصاف کے گوہر نواز سندھو کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

* <link type="page"><caption> پاناما پیپرز اور عالمی سطح پر کہرام: خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/panama_leaks_as" platform="highweb"/></link>

گوہر نواز سندھو نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پانامہ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کا خاندان غیرقانونی طور پر سرمایہ پاکستان سے بیرون ملک منتقل کرتا رہا ہے۔ لہٰذا ایسا کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی سیاستدان پر غیرقانونی طور پر سرمایہ منتقل کرنے کے الزامات ثابت ہوں تو انھیں نااہل قرار دیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ میں پاناما لیکس کی جوڈیشل انکوائری کروانے اور نیب سے اس کی تحقیقات کروانے سے متعلق متعدد درخواستیں دائر کی گئیں ہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے ان تمام درخواستوں کو یکجا کرنے کا حکم دیا۔ ان درخواستوں کی سماعت 11 اپریل کو ہوگی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم نواز شریف پاناما لیکس میں اپنے خاندان کے مالی اثاثوں کے بارے میں ہونے والے انکشافات کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔