’مردم شماری کے لیے ایک لاکھ فوجیوں کی ضرورت تھی‘

بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ مردم شماری کو ملتوی کرنے کا فیصلہ صوبائی نمائندوں کے درمیان اتفاق رائے کے باعث لیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنبی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ مردم شماری کو ملتوی کرنے کا فیصلہ صوبائی نمائندوں کے درمیان اتفاق رائے کے باعث لیا گیا ہے

داخلي امور کي پارليماني کميٹي کي سربراہ مريم اورنگزيب کا کہنا ہے کہ اس بار پاکستان میں مردم شماری کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے کم از کم ایک لاکھ فوجیوں کی ضرورت تھی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مردم شماری کو ملتوی کرنے کا فیصلہ صوبائی نمائندوں کے درمیان اتفاق رائے کے باعث لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ’ہم سنہ 1951 سے لے کر سنہ 1998 کی مردم شماری کے عوامل کو دیکھیں تو اس عمل میں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے فوج کی مدد لی جاتی ہے۔‘

مريم اورنگزيب سے پوچھاگیا کہ پاکستان کی فوج میں پانچ لاکھ سے زیادہ فوجی ہیں اور اگر حکومت کوصرف ایک لاکھ فوجیوں کی مدد کی ضرورت تھی، تو کیا ناقدین کا یہ کہنا درست ہے کہ حکومت کا جواز مضبوط نہیں ہے؟

انھوں نے کہا کہ ’اگر حکومت نے مردم شماری کو نظر انداز کرنا ہوتا تو وہ اس کے لیے ایک سو 40 ملین ڈالرز کا بجٹ نہ رکھتی اور نہ ہی اس کی منصوبہ بندی کرتی۔‘

مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت نے پاکستان میں مردم شماری کے عمل کو وقتی طور کے لیے اس لیے ملتوی کیا ہے کیونکہ پاکستان غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔

29 فروری کو حکومت نے مشترکہ مفادات کی کونسل ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز کی وجہ سے مردم شماری کا عمل موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ فیصلہ پیر کو وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کی صدارت میں منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔

اس سلسلے میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کی نئی تاریخ کا اعلان تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔