پاکستان میں مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں حکومت نے ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز کی وجہ سے مردم شماری کا عمل موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ پیر کو وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کی صدارت میں منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔
اس سلسلے میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کی نئی تاریخ کا اعلان تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز اور فوج کی مصروفیات کی وجہ سے ماضی میں دی گئی تاریخ پر مردم شماری کروانا ممکن نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے گذشتہ سال یہ اعلان کیا تھا کہ مارچ 2016 میں ملک میں مردم شماری اور خانہ شماری فوج کی نگرانی میں کروائی جائے گی۔
اس سے قبل ملک میں پانچ مرتبہ آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری کروائی گئی ہے۔ پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔
رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بعض بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے درمیان یہ بات ہمیشہ متنازع رہی ہے کہ بلوچستان میں کون اکثریت میں ہے۔
ماضی میں جو مردم شماریاں ہوئیں انھیں پشتون قوم پرستوں نے تسلیم نہیں کیا جبکہ اس مرتبہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ سازگار حالات کے بغیر مردم شماری ہوئی تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچ قوم پرستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین بھی آباد ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد نے پاکستانی شہریت کی دستاویزات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔







