مردم شماری:’طالبان کا تعاون‘

کیا طالبان ان کے زیر اثر علاقوں میں مردم شماری کے عمل میں تعاون کریس گے؟
،تصویر کا کیپشنکیا طالبان ان کے زیر اثر علاقوں میں مردم شماری کے عمل میں تعاون کریس گے؟
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

حکومت پاکستان کے چیف سینسس کمشنر خضر حیات خان نے کہا ہے کہ طالبان نے بالواسطہ طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے زیر اثر علاقوں میں آئندہ مردم شماری میں پوری طرح تعاون کریں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے انہوں نے بتایا کہ پاکستانی طالبان کے قائدین سے براہ راست تو ان کی بات نہیں ہوئی لیکن فاٹا کے ایڈیشنل سیکریٹری کے ذریعے طالبان سے ان کے رابطے ہوئے ہیں۔

’وہ ہم سے تعاون کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ توہماری بھلائی کے لیے کر رہے ہیں تو اس میں ہم ان کی مدد کریں۔ ہم نے ان سےکہا کہ ہم جتنے بھی لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں اس کی ہم آپ کو فہرست دیں گے وہ ہم شائع کریں گے اور جو لوگ مارے گئے ہیں ان کی بھی فہرست دیں گے تو وہ بڑے خوش ہیں اور ہم سے تعاون کر رہے ہیں۔‘صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے مختلف شورش زدہ حصوں میں طالبان کے مختلف گروپ سرگرم ہیں اور ان کا اپنے اپنے علاقوں پر اثرورسوخ ہے۔

خضر حیات خان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ان کے طالبان کے کس گروپ سے رابطے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے نے مردم شماری کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کررکھے ہیں اور انہیں حکومت کی طرف سے اجازت کا انتظار ہے۔'بندوبستی علاقوں میں بھی ہمارے انتظامات مکمل ہیں اور اسی طرز کے انتظامات ہم نے شورش زدہ علاقوں میں بھی کر رکھے ہیں۔‘

پاکستان میں آخری بار 1998ء میں مردم شماری ہوئی تھی جس کی نگرانی فوج نے کی تھی۔ اس کے بعد پچھلے سال مردم شماری کرانے کا اعلان ہوا تھا لیکن انتظامات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اسے اکتوبر 2009ء تک ملتوی کردیا گیا تھا۔

خضر حیات خان کے مطابق مردم شماری کے لیے قائم وفاقی حکومت کے ادارے پاپولیشن سینسس آرگنائزیشن نے اس سال پندرہ مئی سے خانہ شماری کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم کابینہ کے حالیہ اجلاس میں وزیر اعظم کی ہدایت پر اسے مؤخر کیا گیا ہے۔

'وزیر اعظم نے بین الصوبائی وزارت کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں چاروں صوبوں کے گورنر اور وزرائے اعلی شامل ہیں اور بین الصوبائی وزارت کا قلمدان چونکہ وزیر اعظم کے پاس ہے اس لیے وہ خود اس کمیٹی کے سربراہ ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ کمیٹی کا اجلاس جلد بلا کر صوبوں کے گورنر اور وزرائے اعلی کو اعتماد میں لینے کے بعد مردم شماری کے شیڈول کی منظوری دیں گے۔‘

خضر حیات خان نے بتایا کہ صوبہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے شورش زدہ حصوں میں مردم شماری کے لیے ان کے ادارے نے ایک منصوبہ تیار کر رکھا ہے جس کے تحت ان لوگوں کی رجسٹریشن کی حکمت عملی بھی طے کی گئی تھی جنہیں فوجی کارروائی یا لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

’ہم نے یہ کہا ہے کہ جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں وہ اب کسی اور جگہ ہوں گے لیکن جہاں بھی ہوں گے ہم انہیں شمار کرلیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ شورش زدہ علاقوں میں مردم شماری کے عملے کی تقرری اور تربیت بھی مکمل کرلی گئی ہے اور انہیں نقشے اور دوسری ضروری اشیاء بھی فراہم کی جاچکی ہیں۔

چیف سینسس کمشنر کے مطابق اس بار مردم شماری فوج کی زیر نگرانی نہیں ہوگی کیونکہ ایک تو اس کی ضرورت نہیں ہے اور دوسرا فوج نے خود بھی معذرت کرلی ہے۔

’فوج نے تو مردم شماری کے کام میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی بحالی امن کے کام میں مصروف ہے اور ہماری اپنی بھی خواہش یہ ہے کہ فوج اس میں شامل نہ ہو اور سویلین ہی یہ کام کریں۔‘