بلوچ قوم پرستوں کے مجوزہ مردم شماری پر تحفظات

اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ناسازگار حالات کی وجہ سے صوبے میں الیکشن تک بری طرح سے متاثر ہوئے اور ان حالات میں مردم شماری کیسے ممکن ہو گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناختر مینگل کا کہنا ہے کہ ناسازگار حالات کی وجہ سے صوبے میں الیکشن تک بری طرح سے متاثر ہوئے اور ان حالات میں مردم شماری کیسے ممکن ہو گی
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بعض بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے تحفظات کے اظہار کی وجہ سے اس برسمجوزہ مردم شماری کے ایک مرتبہ پھر متنازع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بعض بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے درمیان یہ بات ہمیشہ متنازع رہی ہے کہ بلوچستان میں کون اکثریت میں ہے۔

ماضی میں جو مردم شماریاں ہوئیں انھیں پشتون قوم پرستوں نے تسلیم نہیں کیا جبکہ اس مرتبہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ سازگار حالات کے بغیر مردم شماری ہوئی تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

موجودہ حالات کی وجہ سے بلوچستان میں اس وقت قوم پرست جماعتیں دو واضح حصوں میں تقسیم ہوگئی ہیں ۔

ان میں ایک وہ بلوچ قوم پرست ہیں جو کہ اپنے آپ کو علیحدگی پسند کہتی ہیں۔ ایسی جماعتیں نہ صرف انتخابات اور مردم شماری جیسے معاملات سے لاتعلق ہیں بلکہ وہ ان کے مخالفت بھی کر رہی ہیں۔

جہاں تک پارلیمانی سیاست کرنے والی بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کا تعلق ہے وہ انتخابات اور مردم شماری کی تو حامی ہیں لیکن بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات مردم شماری کے لیے سازگار نہیں۔

کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’بلوچستان جنگی حالت سے دوچار ہونے کی وجہ سے جل رہا ہے اور اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے بلوچ آبادی والے بہت سارے علاقوں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔‘

بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے سخت سکیورٹی کے باوجود صوبے میں الیکشن تک بری طرح سے متاثر ہوئے تھے اور ان حالات میں مردم شماری کیسے ممکن ہو سکے گی؟

’جو لوگ پہاڑوں پر بیٹھے ہیں، انھوں نے کہا تھا کہ وہ الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ آپ نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا، فوج سے لے کر ایف سی تک تعینات کی لیکن یہ بات آپ تسلیم کرتے ہیں کہ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی جو شرح ہونی چاہیے تھی وہ نہیں رہی۔‘

بلوچ قوم پرستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین بھی آباد ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد نے پاکستانی شہریت کی دستاویزات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔

سردار اختر مینگل نے پریس کانفرنس میں تین مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا، نقل مکانی کرنے والوں کی ان کے آبائی علاقوں میں دوبارہ آباد کاری نہیں ہوتی اور تمام غیرملکیوں کو باعزت طریقے سے ان کے ملکوں میں واپس نہیں بھیجا جاتا اس وقت تک وہ کسی بھی مردم شماری کو تسلیم نہیں کریں گے۔

1998ء میں سردار اختر مینگل کے دور حکومت میں جب مردم شماری ہوئی تو پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اس جماعت کے صوبائی صدر سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ ماضی میں مردم شماری میں پشتونوں کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ’پہلے یہاں پشتونوں اور بلوچوں کی آبادی مساوی تھی لیکن 1971ء میں جو حکومت بنی تو اس میں بلوچ اکابرین تھے۔ اس حکومت میں پشتون بلوچ مشترکہ صوبے میں پشتونوں کی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ 1971ء کی حکومت میں پشتونوں کی آبادی کو 50فیصد سے 30فیصد جبکہ بلوچوں کی آبادی کو 50فیصد سے بڑھاکر70فیصد کردیا گیا۔

سینیٹرعثمان کاکڑ نے بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کی مخالفت کو ایک بہانہ قرار دیا۔

عثمان کاکڑ کا کہنا تھا ’ہمارے بلوچ بھائیوں کا کہنا ہے کہ یہاں 40 لاکھ افغان مہاجرین ہیں۔ یہ بے بنیاد دعویٰ ہے۔ بلوچستان میں تو 40 لاکھ پشتون اور بلوچ ووٹر اور شناختی کارڈ ہولڈرز تک نہیں۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے گذشتہ سال یہ اعلان کیا تھا کہ مارچ 2016 میں ملک میں مردم شماری اور خانہ شماری فوج کی نگرانی میں کروائی جائے گی۔

اس سے قبل ملک میں پانچ مرتبہ آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری کروائی گئی ہے۔ پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔