18 سال بعد فوج کی نگرانی میں مردم شماری کروانے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی حکومت نے آئندہ سال ملک میں مردم شماری اور خانہ شماری کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں قومی اور صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ طویل عرصے کے بعد ملک کی آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری کروائی جائے گی۔
مشترکہ مفادات کونسل ایک آئینی ادارہ ہے، جس میں وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ شریک ہوتے ہیں۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سمیت دیگر وفاقی وزرا شریک تھے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے۔
اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سال مارچ میں مردم شماری اور خانہ شماری فوج کی نگرانی میں کروائی جائے گی اور اس پر آنے والے اخراجات صوبے اور وفاق مل کر ادا کریں گے۔
اس سے قبل ملک میں پانچ مرتبہ آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری کروائی گئی ہے۔ پاکستان میں آخری مردم شماری اور خانہ شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔آئندہ سال یعنی مارچ 2016 میں 18 سال کے بعد مردم شماری ہو گی۔
1998 میں ہونے والی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 64 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ سنہ 1998 سے 2015 تک آبادی کا پتہ لگانے کے لیے سروے تو نہ ہو سکا لیکن حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی آبادی بڑھ کر 18 کروڑ 80 لاکھ ہو گئی ہے۔
پاکستان کے کئی حلقوں نے ملک کی آبادی کا پتہ لگانے کے لیے مردم شماری میں تاخیر پر تنقید بھی کی ہے۔ ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ مردم شماری میں تاخیر سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’صوبے مردم شماری کے لیے تیار نہیں تھے۔ آبادی بڑھنے یا کم ہونے سے صوبوں کو وفاق کی جانب ملنے والا فنڈ بھی کم یا زیادہ ہوتا ہے اور کوئی بھی اپنے آمدن میں کمی نہیں چاہتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ’آبادی کے اعداد و شمار کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوتی ہیں، ووٹ تقسیم ہوتا ہے، جو کسی بھی سیاسی جماعت کے فائدے میں نہیں ہے۔‘
پاکستان کے آئین کے مطابق ہر دس سال بعد ملک میں آبادی کا تخمینہ لگانے نے لیے مردم شماری کروائی جائےگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں حلال خوراک کے لیے پاکستان حلال اتھارٹی بنائی جائے گی کیونکہ بیرونی ممالک میں حلال فوڈ کی بہت بڑی مارکیٹ موجود ہے اور پاکستان حلال فوڈ برامد کر کے بڑی تعداد میں زرمبادلہ کما سکتا ہے۔
مشترکہ مفادات کے اجلاس میں پاور جنریشن پالیسی 2015 کی منظوری بھی دی گئی۔







