اقتصادی سروے: صحت کی سہولیات کم

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان میں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کا رواں سال صحت کا بجٹ اسی ارب روپوں کے قریب ہے، جو کہ پاکستان کی مجموعی پیداوار یا جی ڈی پی کا صفر اعشاریہ پانچ چار فیصد بنتا ہے۔
حکومتی دستاویز ’اقتصادی سروے‘ کے مطابق پاکستان میں صحت کی سہولیات خطے کے دیگر ممالک کی نسبت کافی کم ہیں۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بعض ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان میں جب تک صحت کا بجٹ دوگنا نہیں کیا جاتا اس وقت تک سنہ دو ہزار پندرہ کے لیے اقوام متحدہ کے طے کردہ ملینیم ڈیویلپمنٹ گولز کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں نو سو ستر کے قریب ہسپتال موجود ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب ڈاکٹر، اٹھانوے ہزار کے قریب ڈینٹسٹ یا دانتوں کے ڈاکٹر اور ستر ہزار کے قریب نرسز ہیں۔
ملک میں ٹی بی کے علاج کے لیے دو سو ترانوے مراکز قائم ہیں۔ پاکستان میں بنیادی صحت مراکز اور رورل ہیلتھ سینٹرز کی تعداد چھ ہزار کے قریب ہے لیکن وہاں اکثر تربیت یافتہ عملے اور ادویات کی عدم دستیابی کی شکایات سامنے آتی ہیں۔
حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ایشیا میں بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ پاکستان میں ہے۔ جوکہ نوزائدہ بچوں میں فی ہزار پر پینسٹھ اور پانچ برس سے کم عمر والے بچوں میں شرح فی ہزار پر پچانوے بنتی ہے۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سنہ دو ہزار سے اب تک ہر سال مجموعی ملکی پیداوار یا جی ڈی پی کے اعتبار سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے صحت کے اخراجات میں کمی ہو رہی ہے۔
صحت کے کل اخراجات جو سنہ دو ہزار میں جی ڈی پی کا صفر اعشاریہ سات فیصد تھے وہ اب صفر اعشاریہ پانچ چار فیصد ہوچکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومتی اعداد وشمار کے مطابق سترہ کروڑ سے زیادہ آبادی والے پاکستان میں پونے بارہ سو افراد کے لیے ایک ڈاکٹر جبکہ سترہ ہزار افراد کے لیے ایک ڈینٹسٹ موجود ہے۔ پاکستان میں اوسطاً تقریبا سولہ سو افراد کے لیے ہسپتال کا صرف ایک بستر موجود ہے۔







