پاکستان میں خانہ شماری شروع

،تصویر کا ذریعہ
پاکستان میں تیرہ سال کے بعد منگل سے خانہ شماری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے لیے ملک کو ایک لاکھ چالیس ہزار حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے پہلے مرحلے میں مکانات، کارخانوں اور عمارتوں کا اندراج ہوگا اور دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی۔
خانہ شماری کے لیے فی ورکر ایک کلومیٹر کا علاقہ دیاگیا ہے اور یہ کام اسے پندرہ روز میں مکمل کرنا ہوگا۔ اس مہم کے دوران کارخانے، گھر، فلیٹ، جھگی، کشتی، غار، مسجد، مندر، چرچ اور ہیلتھ سینٹر کا شمار کیا جائیگا۔ یہ سلسلہ انیس اپریل تک جاری رہے گا اور اگلے مرحلے میں اگست اور ستمبر میں مردم شماری ہوگی۔
چیف سینسز کمشنر خضر حیات نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیلاب زدگان کے اندراج کے لیے فارم میں خاص کالم شامل کیا گیا ہے۔سیلاب زدگان جہاں بھی موجود ہوں گے وہاں عملہ جا کر ان کا اندراج کرے گا۔
پاکستان کے کسی صوبے کو کتنے وسائل ملیں گے اور ملازمتوں میں کتنا کوٹہ ہوگا اس کی بنیاد آبادی ہوتی ہے، صوبہ سندھ میں مردم شماری نےسیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے، جہاں قوم پرست جماعتوں کی جانب سے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آج کل ہر سندھی اخبار میں اس موضوع پر کالم اور ٹی وی چینلز پر بحث مباحثے جاری ہیں۔ سندھ نیشنل پارٹی کے سربراہ امیر بخش بھنبھرو بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سوات میں فوجی آپریشن کے وقت تیرہ لاکھ لوگ صوبہ سندھ آئے جو واپس نہیں گئے یہ خود حکومت کے اعداد و شمار ہیں، اس کے علاوہ غیر قانونی برمی، بنگالی، بہاری اور افغانیوں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں اور انہوں نے پاکستان کے قوم شناختی کارڈ حاصل کرلیے ہیں۔ اب خدشہ ہے کہ مردم شماری میں ان کو بھی شامل کردیا جائے گا۔
قوم پرست جماعتوں کے ان خدشات سے چیف سینسز کمشنر خضر حیات بھی اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جن کے شناختی کارڈ بن چکے ہیں وہ قانونی ہیں یا غیر قانونی ان کا اندراج تو ہوگا جن کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے انہیں شامل نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان میں مردم شماری انیس سو اسی کی دہائی سے ایک متنازعہ سیاسی مسئلہ رہی ہے اور کئی مرتبہ حکومتیں اسے موخر کرتی رہی ہیں، صوبہ سندھ کی جانب سے ہر مرتبہ اعتراضات سامنے آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سندھ دوست رابطہ کونسل کے رہنما ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ سندھی صوبہ سندھ کی ستر فیصد آبادی ہیں مگر تکنیکی بنیادوں پر ہر بار وفاقی حکومت انہیں اقلیت میں ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے چونکہ بدقسمتی سے وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے وفاقی حکومت مردم شماری کے نتائج میں ہیرا پھیری کرتی ہے۔
حکمران پاکستان پیپلز پارٹی سندھ اور وفاق میں اکثریت رکھتی ہے مگر قوم پرست جماعتیں اس حکومت کی نگرانی میں بھی مردم شماری پر اعتماد نہیں کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل تاج حیدر نے قوم پرست جماعتوں سے مذاکرات بھی کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں سینسز کمشنر قانونی بات کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ شناختی کارڈ کی موجودگی اس کے پاس اندراج کے لیے ایک ثبوت ہے اگر غلط طریقے سے شناختی کارڈ حاصل کیا گیا ہے تو اس کا اندراج نہیں بلکہ کارڈ منسوخ کر کے اسے غیر ملکیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ملک میں آج سے خانہ شماری کا سلسلہ تو شروع ہوگیا مگر صوبہ سندھ میں منگل کی شام تک سینسز کمشنر کی تعیناتی ہیں نہیں ہوئی تھی۔
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پچھلے برسوں میں دیگر صوبوں سے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہوئی ہے۔حالیہ مردم شماری میں مختلف لسانی گروہ مختلف آبادیوں میں اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے سرگرم ہیں، شہر میں پہلے ہی لسانی کشیدگی موجود ہے ۔
پیپلز پارٹی کے صوبائی سیکریٹری جنرل اور حکومت کے ترجمان تاج حیدر پر امید ہیں کہ مردم شماری کے دونوں مرحلے پر امن طریقے سے طے پا جائیں گے انہوں نے اس بارے میں تمام جماعتوں سے رابطے بھی کیے ہیں، ان کے مطابق اگر حالات خراب بھی رہتے ہیں تو پولیس اور رینجرز نگرانی کے لیے کافی ہیں۔







