انسانی حقوق کے قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں انسانی حقوق کے قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی جس میں وفاقی حکومت کے علاوہ چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
انسانی حقوق کے امور کے بارے میں وفاقی وزیر زاہد حامد نے جمعرات کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کے ارکان نہ صرف انسانی حقوق کے بارے میں رائج قوانین کا جائزہ لے سکیں گے بلکہ ان قوانین میں بہتری لانے کے لیے قانون سازی کے لیے تجاویز بھی دے سکیں گے۔
واضح رہے کہ انسانی حقوق سے متعلق عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر کمیشن تو تشکیل دیا ہے مگر اسے خفیہ اداروں پر لگنے والے انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کی تحقیقات نہیں کرنے دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومتی اعداد و شمار کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت نفرت پھیلانے کے الزام میں نو ہزار سے زیادہ افراد کوگرفتار کیا گیا ہے تاہم بعض پبلشرز اور دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ پولیس انھیں ناجائز تنگ کر رہی ہے اور انھیں دباؤ میں آ کر پکڑا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
رپورٹ میں انسانی حقوق کے کارکنان سے متعلق بھی بات کی گئی ہے اور ایمنسٹی نے کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
زاہد حامد کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی ۔
اُنھوں نے کہا کہ فوری اور سستے انصاف کے لیے متاثرہ اشخاص کو لیگل ایڈ فراہم کرنے کے لیے محتلف شہروں میں سینٹرز بنائے جا رہے ہیں اور اس بارے میں دس کروڑ روپے کی رقم بھی جاری کردی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ خواتین ، بچوں، پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں اور خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جیلوں میں اصلاحات لانے کے لیے بھی تجاویز طلب کی گئی ہیں جن کو جلد ہی حتمی شکل دی جائے گی۔
اُنھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے بارے میں آگہی کے مضامین کو بھی تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے گا۔







