ہندو میرج ایکٹ کا بل قائمہ کمیٹی سے منظور

بل کے تحت شادی کے چھ ماہ کے اندر اندر شادی کا اندراج کرانا لازمی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبل کے تحت شادی کے چھ ماہ کے اندر اندر شادی کا اندراج کرانا لازمی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

قانون اور انصاف سے متعلق پاکستان کے ایوان زریں یعنی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ہندو میرج ایکٹ سنہ 2015 کا بل منظور کر لیا ہے۔

اس بل کے تحت ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والا کوئی لڑکا یا لڑکی 18 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے شادی نہیں کر سکتا۔

اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا ہونے کی صورت میں شادی کرنے والے لڑکے اور لڑکی پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

اس کمیٹی کے رکن اور پاکستان نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے 18 سال کی عمر رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب لڑکے اور لڑکی کی بلوغت کی عمر تک پہنچنے پر شادی پر متفق ہیں۔

اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے شادی کے چھ ماہ کے اندر اندر شادی کا اندراج کرانا لازمی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان میں ہندو برادری کی شادیوں کے اندراج کا کوئی قانون نہیں ہے جس سے ہندو برادری کو شدید خدشات تھے اور حالیہ برسوں میں ہندو برادری کی جانب سے اس معاملے پر قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔

اس اجلاس میں شریک ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ شادی کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے دونوں میں علیحدگی دو سال میں ہوگی، تاہم اس کے علاوہ اس میں چھ ماہ کا اضافی وقت بھی دیا گیا ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان اختلافات ختم ہو جائیں تو پھر بھی وہ دونوں اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

اس بل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر اس عرصے کے دوران میاں بیوی کے درمیان اختلافات ختم نہ ہو سکیں تو پھر وہ دوسری شادی کرنے کے مجاز ہوں گے۔

 پاکستان میں ہندوؤں کی شادیوں کے اندراج کا کوئی قانون نہیں ہے
،تصویر کا کیپشن پاکستان میں ہندوؤں کی شادیوں کے اندراج کا کوئی قانون نہیں ہے

اس بل میں اس شق کو شامل نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی ہندو لڑکا یا لڑکی مذہب تبدیل کرتے ہیں تو انھیں پہلے اس شادی کو ختم کرنا ہوگا، جبکہ مذہب تبدیل کرنے سے شادی کو منسوخ کرنا درست نہیں ہے۔

اس سے پہلے اگر کوئی ہندو لڑکا یا لڑکی مذہب تبدیل کرنے کے بعد عدالت سے رجوع کرے تو عدالت ان کی شادی کو منسوخ کرنے کی مجاز تھی۔

ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان نے اس کی مخالفت کی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ جب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تو وہ اس شق کو بل میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔