’ہمارے بچوں کو ہندی اور گیتا پڑھائی جائے‘

- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، چولستان
پاکستان کے لاکھوں کے غیر مسلم طلبہ آج بھی نصاب میں اپنے مذاہب اور تاریخ سے متعلق متعصبانہ مواد پڑھتے ہیں اور اس کے علاوہ بیشتر جگہوں پر انھیں نصاب میں اسلامیات ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے جس میں ان کے اپنے مذاہب سے متفرق مواد موجود ہوتا ہے۔
صحرائے چولستان میں میری ملاقات ایک ہندو آدت رام سے ہوئی جن کے بچے ان کے گھر سے ملحق ایک کمیونٹی سکول میں زیِرتعلیم ہیں۔ انھیں شکایت ہے کہ ان کے بچوں کو سکول میں ہندو مذہب کے بارے میں تعلیم کے بجائے اسلامی تعلیم دی جاتی ہے۔
’ویسے ہم ہیں تو اِن پڑھ، لیکن اپنے ویدوں میں جو کچھ ہم نے سنا، وہ بتاتے ہیں تاکہ بچوں کی مذہبی تعلیم کی بنیاد بن جائے کہ ہمارا مذہب کیا ہے، ہم کون لوگ ہیں اور اس دنیا میں ہم کیا کرنے آئے ہیں۔ ہم ہندو ہیں تو ہم کو ہندی پڑھائی جائے، بھگوت گیتا پڑھائی جائے، شاستر پڑھائے جائیں،گرنتھ پڑھائی جائے۔‘
آدت رام کا خاندان دیگر 17، 16 ہندو خاندانوں کے ساتھ صحرائے چولستان کے ایک دور دراز علاقے میں مقیم ہے۔
علاقے میں پڑنے والی شدید گرمی اور مرکزی سکول کے فاصلے پر ہونے کی وجہ سےمقامی حکام نے قریب ہی ان کے بچوں کے لیے ایک کمیونٹی سکول کھول دیا ہے جہاں نرسری سے تیسری جماعت کے 47 بچے زیرِ تعلیم ہیں۔
سکول کے واحد استاد ارجن رام کہتے ہیں کہ انھوں نے خود بھی اسلامیات پڑھی ہے اور نصاب کا لازمی حصہ ہونے کی وجہ سے ان بچوں کو اسلامیات پڑھانا ضروری ہے۔
’بنیادی طور پر یہ ایک علم ہی ہے۔ عربی ایک زبان ہی ہے۔ اس میں اسلام میں دیا جانے والا امن کا پیغام ہی ہے لیکن اگر ان بچوں کو اسلامیات کی جگہ ایک کتاب ہوتی ہے اخلاقیات، وہ پڑھائی جائے تو بہتر ہوگا۔ ہمارے لیے بھی اور بچوں کے لیے بھی۔‘
حکومتِ پاکستان نے 2007 میں قومی تعلیمی پالیسی تشکیل دی تھی جس کے تحت ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم غیر مسلم طلبہ کے لیے نصاب میں اسلامیات کے بجائے اخلاقیات کا مضمون تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم آٹھ سال بعد بھی اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی تنظیم آل پاکستان مائنورٹیز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر انجم جیمز پال کے مطابق پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ نے تیسری جماعت سے لے کر سیکنڈری، میٹرک اور انٹر کے غیر مسلم طالبِعلموں کے لیےاخلاقیات کی کتابیں شائع کر دی ہیں لیکن اُس میں شامل مواد پر اُنھیں اعتراض ہے۔
’تیسری جماعت کے مسلمان بچوں کی اسلامیات کی کتاب میں ناظرہ، قرآن اور حفظِ قرآن شامل ہے جبکہ تیسری جماعت کے لیے اخلاقیات کی کتاب میں ارتقائی مذاہب کا تصور، قدرتی مظاہر کی پوجا، آسمانی دیوتا، زمین کی دیوی اور دیوتا، دیوی دیوتاؤں کے قصے، شکار کی دیوی ، فصل کی بوائی اور کٹائی کا دیوتا، بائبل کے قصے کہانیاں، سزا دینے والی دیوی، اشیا میں روح کی موجودگی، جادو کا زمانہ، اشیا پرستی جیسے موضوعات شامل ہیں۔‘

انجم جیمز پال کا کہنا تھا کہ انھوں نے دسمبر میں وزیرِ اعظم سمیت چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خطوط لکھے ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک میں شدت پسندی اور مذہبی ظلم و ستم کو فروغ دینے والے تمام مواد کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔‘
قومی اسمبلی میں اقلیتیوں کے نمائندہ رکنِ رمیش کمار وانکوانی نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وہ خود چاروں صوبوں کے سیکریٹری تعلیم کے ساتھ مل کر غیر مسلموں کے لیے نصاب میں دیگر مذاہب سے متعلق نفرت انگیز مواد ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں تمام اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم سے بھی مشاورت بھی کی جاتی ہے۔
رمیش کمار نے بتایا: ’سندھ حکومت نے پہلی سے پانچویں تک کتابیں تبدیل کر لی ہیں اور وہاں کام جاری ہے لیکن ابھی تک وہ نصاب میں شامل نہیں ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں بھی یہ کام نہیں کیا جا سکا ہے لیکن وہاں تعلیمی نصاب میں مذہبی نفرت پر مبنی مواد اتنا نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اب تک اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا ہے۔‘
انھوں نے اقلیتی بِرادری سے تعلق رکھنے والے ماہرِین تعلیم کو دعوت دی کہ وہ تشکیل دیے جانے والے نئے نصاب اور اخلاقیات کی کتاب میں مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اِن کتابوں کی اشاعت سے قبل ہی غلطیوں کو درست کر لیا جائے۔







