پاکستان سے اقلیتی برادری کی نقل مکانی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عنبر شمسی، حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق پاکستان سے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تقریباً 21 افراد روزانہ منظم جبر کے باعث ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔
ڈویلپمنٹ آلٹرنیٹو انٹرنیشنل نامی غیر سرکاری تنظیم نے پاکستان کے ہندو، سکھ، مسیحی اور احمدی برادری کی ملک کے اندر اور ملک سے باہر نقل مکانی کی یہ رپورٹ ان برادریوں کے رہنماؤں، میڈیا کی رپورٹس اور مختلف علاقوں میں متاثرہ افراد سے انٹرویو کی بنیاد پر تیار کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تارکینِ وطن کے قابلِ اعتماد اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے نقل مکانی کی وجوہات کے بارے میں معلوم ہو سکا تاہم ڈویلپمنٹ آلٹرنیٹو انٹرنیشنل نے اخبارات کی مختلف رپورٹس اور پاکستان ہندو کونسل کے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا ہے کہ روزانہ 21 افراد دوسرے ممالک منتقل ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ سب سے واضع اعداد و شمار ہندو برادری سے ہیں۔ تقریباً پانچ ہزار ہندو ہر سال بھارت جا رہے ہیں جبکہ سکھ برادری کے مطابق، 128 سکھ خاندان گذشتہ کچھ سال میں ہمسایہ ملک گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق، 2012 اور 2014 کے درمیان پاکستان سے سری لنکا جانے والے احمدی اور مسیحی افراد کی تعداد میں 13 سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔
تنظیم کے دو اہلکار صفیہ آفتاب اور عارف تاج نے تحقیق کر کے یہ رپورٹ تیار کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صفیہ آفتاب کہتی ہیں کہ ’ویسے تو یہ سلسلہ 10 سال سے چل رہا ہے لیکن ہمیں لگا کہ پچھلے تین یا چار سال میں تیزی آئی ہے۔ اس معاملے میں اعداد وشمار اس لیے نہیں ملتے کیونکہ برادریاں اس پر بات کرنے سے ڈرتی ہیں اور تارکینِ وطن اکثر غیر قانونی طور پر ملک سے جاتے ہیں۔‘
عارف تاج نے بتایا کہ انھوں نے کئی کئی بار برادریوں کے نمائندوں سے بات کر کے ان کا اعتماد بڑھایا۔’یہ لوگ شدت پسند تنظیموں کے ردِعمل سے ڈرتے ہیں اور اجنبی لوگوں پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے۔ اس کاؤش کے بعد بھی ہمیں لگا کہ انھوں نے کھل کر ہمیں پوری باتیں نہیں بتائیں۔‘
اس رپورٹ میں چاروں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے 14 افراد کی آپ بیتیاں بھی شامل ہیں جنھوں نے نقل مکانی کے پیچھے عوامل، جیسے دھمکیاں اور حملے وغیرہ اور اپنے حالات کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ ان افراد کے تحفظ کے لیے ان کے نام نہیں دیے گئے۔ ان کا تعلق صوبے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے ہے۔
ڈولپمنٹ آلٹرنیٹو انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ چاروں اقلیتی برادریوں کو مختلف قسم کے جبر کا سامنا ہے۔ اگرچہ احمدی اور مسیحی برادری کو قانون کے تحت ہراساں کیا جاتا ہے، جیسے کہ قانونِ ناموسِ رسالت اور احمدیوں کے خلاف مخصوص قوانین، تو سکھ برادری کو قبائلی علاقوں اور صوبے خیبر پختونخوا میں شدت پسند تنظیموں سے دھمکیوں، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کے مسائل کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، ہندو برادری کو سندھ میں جبری شادیوں، اغوا برائے تاوان جیسی مشکلات درپیش ہیں۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ سندھ میں ہندو برادری کو غربت اور جاگیر درانہ نظام کی وجہ سے خاص طور پر خطرہ ہے۔
عارف تاج کا کہنا ہے تمام انٹرویو کرنے کے بعد لگا کہ احمدی برادری کے خلاف جبر زیادہ ہوتا ہے اور ان کی صورتِ حال زیادہ گھمبیر ہے۔ ’ہم نے دیکھا کہ ایسے دیہات ہیں جہاں نصف آبادی خوف کے مارے نقل مکانی کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی شناخت بھی چھپاتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بھی مسلمان نام رکھ کر اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
متاثرہ افراد نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کوئی امید نہیں ہے اور نہ ہی عدالتی نظام پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ صفیہ آفتاب نے کہا کہ یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ’ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کمزور پڑ گیا ہے اور ریاست اپنی ذمہ داری نبھا نہیں رہی۔‘
اس کے علاوہ، تنظیم کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بعض اوقات شدت پسند تنظیمیں ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر خاص اقلیتی برادریوں کو ایک منظم مہم کے تحت نشانہ بنا رہی ہیں، جبکہ قانونِ ناموسِ رسالت کی دھمکی ہی نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کے اندر ہی یہ برادریاں مخصوص علاقوں تک محدود ہو رہے ہیں جہاں وہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہ کر اپنے آپ کو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں۔
ڈولپمنٹ آلٹرنیٹو انٹرنیشنل کی رپورٹ نے سفارش کی ہے کہ قومی انسانی حقوق کے کمیشن کے لیے قانون2012 میں منظور ہوا تھا، تاہم اب تک اس کمیشن کو تشکیل نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ اقلیتی برادری کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کے پچھلے سال کے فیصلے پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔
رپورٹ نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قومی ایکشن پلان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز مواد کے خلاف سخت کارروائیوں اور بین المذاہب ہم آہنگی کو ہنگامی بنیادوں پر فروغ دینا چاہیے۔







