پاکستانی ہندوؤں کا دیوالی پر قومی تعطیل کا مطالبہ

دیوالی کو روشنیوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے اور اس دن چراغاں کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندیوالی کو روشنیوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے اور اس دن چراغاں کیا جاتا ہے

پاکستان کی ہندو اقلیتی برادری کے رہنماؤں نے ہندوؤں کے اہم تہوار دیوالی کو قومی تعطیل قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستانی پارلیمان کے ایک رہنما ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا ہے کہ انھوں نے پیر کو یہ مطالبہ قومی اسمبلی کے سپیکر کے سامنے پیش کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دیوالی کے دن کو قومی یومِ تعطیل کے طور پر اعلان کرنے سے دنیا میں پاکستان کی شبیہ بہتر ہوگی اور اس کے علاوہ یہ اقلیتی برادری کے بنیادی حقوق میں بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار برسراقتدار پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان ہندو کونسل کے سینیئر رکن ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’دیوالی کے دن کو عام تعطیل کا دن قرار دینے سے پاکستان کی بین الاقوامی شبیہ بہتر ہوگی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس سے یہ پیغام بھی جائے گا کہ حکومت پاکستان اقلیتوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیاز روا نہیں رکھتی۔

پاکستان میں تقریباً 80 لاکھ ہندو رہتے ہیں جو ملک کی آبادی کا چار فیصد ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں تقریباً 80 لاکھ ہندو رہتے ہیں جو ملک کی آبادی کا چار فیصد ہیں

انھوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ہندوؤں کو دیوالی کے موقعے پر بونس بھی دیا جائے۔

ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر ہندو صوبہ سندھ میں رہتے ہیں جو کہ زیادہ تر غریب ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ حکومتیں ہندوؤں کو سالانہ بونس دیا کرتی تھیں لیکن اس حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ابھی تک ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے ابھی اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ہندو برادری کی جانب سے یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے اس سے پہلے بھی اس بارے میں باتیں ہوتی رہی ہیں۔

دیوالی جمعرات کو منائی جا رہی ہے۔