بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیم کی چیئر پرسن کا ’گھر جلا دیا گیا‘

ایف سی کے ترجمان کے مطابق اس آپریشن کے دوران پانچ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان سے اسلحہ برآمد کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایف سی کے ترجمان کے مطابق اس آپریشن کے دوران پانچ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان سے اسلحہ برآمد کیا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی تنظیم بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئر پرسن بی بی گل بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک سرچ آپریشن کے دوران ان کے گھرکو جلایا گیا ہے تاہم صوبائی حکام نے اس واقعے کی تردید کی ہے۔

بی بی گل بلوچ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز ضلع کیچ کے علاقے گومازی میں مبینہ طور پر آپریشن کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران متعدد گھروں کو نذرآتش کیا گیا جن میں ان کے گھر کے علاوہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے وائس چیئرمین غلام نبی بلوچ کے گھر بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل بھی سخت گیر موقف کے حامل قوم پرستوں کی جانب سے سرچ آپریشنوں کے دوران گھروں کو جلانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے گھروں کو جلانے کا الزام سختی سے مسترد کیا۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شدت پسند تنظیموں کی جانب سے ایسے الزامات سکیورٹی فورسز کو بدنام کرنے کے لیے لگائے جارہے ہیں۔

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئر پرسن نے یہ بھی الزام لگایا کہ گومازی میں سرچ آپریشن کے دوران متعدد افراد کو لاپتہ بھی کیا گیا۔

گومازی میں سرچ آپریشن کے حوالے سے کوئٹہ میں ایف سی کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا تھا۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کے پیش نظر گومازی میں جو سرچ آپریشن کیا گیا اس کے دوران تین غیر ملکیوں سمیت 13مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

بیان کے مطابق دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کرنے کے علاوہ ریاست مخالف لٹریچر بھی برآمد کیا گیا۔

فرنٹیئر کور نے ضلع زیارت کے علاقے اغبرگ میں بھی سرچ آپریشن کیا ہے۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق اس آپریشن کے دوران پانچ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان سے اسلحہ برآمد کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے شدت پسندوں کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔