انسانی حقوق کے کارکنوں کے متعلق قرارداد کی مخالفت پر تشویش

بیان میں کہا گیا ہے کہ قرارداد 25 نومبر کو منظور کی گئی جس کی 117 ممالک نے حمایت کی
،تصویر کا کیپشنبیان میں کہا گیا ہے کہ قرارداد 25 نومبر کو منظور کی گئی جس کی 117 ممالک نے حمایت کی

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے متعلق ایک قرارداد کی مخالفت کی ہے جس میں دنیا کی حکومتوں سے ان کے کردار کو تسلیم کرنے اور انھیں تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کمیشن نے ایک بیان میں اسے انتہائی تشویشناک اور تکلیف دہ عمل قرار دیا ہے اور پارلیمان سے کہا ہے کہ وہ اس کی وضاحت فراہم کرے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی شعبوں میں کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایچ آر سی پی کے کارکن اور صحافی زمان محسود کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2016 تک ازسرنو رجسٹریشن کی درخواست نہ دینے والی بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قرارداد 25 نومبر کو منظور کی گئی جس کی 117 ممالک نے حمایت کی۔ ’مگر ایچ آر سی پی کو یہ جان کے بہت دکھ ہوا کہ قرار داد کی مخالفت کرنے والے 14 ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔‘

کمیشن کہتا ہے کہ قرار داد کی مخالفت کرنے والے تمام ملکوں کا تعلق افریقی اور ایشیائی خطوں سے ہے جبکہ قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہ لینے والے چالیس ملکوں کی اکثریت کا تعلق بھی انہی خطوں سے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے محافظ انتہائی خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ریاستوں سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ان کے کام میں تعاون اور ان کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہوں گی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ انسانی حقوق کے محافظوں کو افریقہ اور ایشیاء میں آنے والے دنوں میں مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

کمیشن کہتا ہے کہ پاکستان کی مخالفت کے بعد سول سوسائٹی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایسا کونسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔