سانحۂ پشاور کے مجرمان کی سزائے موت پر عمل درآمد معطل

مقدمے کی سماعت 16 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمقدمے کی سماعت 16 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث دو مجرموں سمیت چار افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔

ان چاروں مجرمان کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی جانے والی <link type="page"><caption> فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی تھی۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150813_army_court_aps_sentensed_zh" platform="highweb"/></link>

جن مجرمان کی سزاؤں پر عملدرآمد روکا گیا ہے اُن میں تاج محمد اور علی رحمان آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملہ کرنے والوں کے سہولت کار تھے جبکہ دیگر دو مجرمان میں محمد عمران سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے اور قاری زبیر نوشہرہ میں مسجد میں حملے میں ملوث تھے۔

جسٹس دوست محمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے یہ حکمِ امتناعی منگل کو ان مجرمان کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے بعد جاری کیا۔

ملزمان کی طرف سے خالد انور آفریدی اور لطیف آفریدی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے موقف اختیار کیا کہ فوجی عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں نہ تو اُن کے موکلین کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی فوجی عدالتوں کی طرف سے اس فیصلے کا ریکارڈ فراہم کیا گیا

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جب تک دوسری پارٹی کا موقف نہ سنا جائے اُس وقت تک درخواست گّزار کے موقف کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔

لطیف آفریدی کا کنا تھا کہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق ان عدالتوں کی طرف سے دیے گئے فیصلوں کو اعلی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔

آرمی پبلک سکول پر حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول پر حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

عدالت نے درخواست گزاروں کا موقف سننے کے بعد ان چاروں مجرموں کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا اور اس ضمن میں جیگ برانچ سے ریکارڈ طلب کرلیا جبکہ اٹارنی جنرل سے ان مجرمان کی اپیلوں کی موجودہ حیثیت سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ ان مجرمان نے فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی تاہم ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باعث ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔

مقدمے کی سماعت 16 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر 2014 میں طالبان شدت پسندوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے 140 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا تھا جن میں اکثریت طلبا کی تھی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والا گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔