’موت کی سزاؤں پر عمل درآمد تشدد کی بقا کی وجہ ہے‘

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں ایمینسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف سے ملک میں سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
وزیرِ اعظم کے نام ایک کھلے خط میں ان تنظیموں نے کہا ہے کہ پاکستان میں پھانسیوں کا سلسلہ قابلِ مذمت ہے جسے فوری طور پر روک دیا جانا چاہیے۔
ایمینسٹی اور ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پشاور کے آرمی سکول میں ’قتلِ عام‘ کے بعد پھانسیاں دیے جانے کا جو سلسلہ پاکستان میں شروع ہوا ہے اس کے تحت اب تک ایک برس میں 300 سے زیادہ افراد کو تختۂ دار پر چڑھایا جا چکا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پشاور میں سکول پر حملے کے جیسے دلخراش واقعات یقیناً حکومت کی جانب سے سخت ردعمل کے متقاضی تھے لیکن موت کی سزاؤں پر عمل درآمد تشدد کی بقا کی وجہ بنتا ہے۔
حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں کے مطابق جن افراد کو اس عرصے میں پاکستانی حکام نے پھانسیاں دی ہیں ان میں سے اکثریت ایسے دہشت گردی کے جرائم میں سزا یافتہ نہیں تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر پھانسیوں کی وجہ سے پاکستان اس برس دنیا میں سزائے موت دینے والے تین بڑے ممالک میں سے ایک بن چکا ہے اور یہ ایک شرمناک حقیقت ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان جب تک سزائے موت ختم نہیں کرتی اس وقت تک سرکاری طور پر جیلوں میں ان سزاؤں کے منتظر افراد کی سزا پر عمل درآمد کا سلسلہ سرکاری طور پر معطل کیا جائے۔
جنوبی ایشیا کے لیے ایمینسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر ڈیوڈ گرفتھس کا کہنا ہے کہ ’اس سے پہلے کہ مزید جانیں جائیں،حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو پھانسی گھاٹ بھیجنے کی مستقل کوششیں روک دی جائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک سال میں اتنی پھانسیاں پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ برس آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت نے لائحہ عمل کا اعلان کیا تو اس کا پہلا نکتہ دہشت گردی میں ملوث افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد تھا۔
اس حملے کے فورا بعد سزائے موت پر لگی سات سالہ پابندی ہٹا دی گئی تھی۔
پابندی کے اٹھائے جانے کے بعد توقع یہ کی جا رہی تھی کہ جیلوں میں موجود دہشتگردی کے جرم میں موت کی سزا پانے والوں کی پھانسی پر عمل درآمد ہوگا۔
تاہم سزائے موت کی مخالفت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم جسٹس پاکستان پراجیکٹ کے مطابق گذشتہ دسمبر سے اب تک پاکستان میں جن 305 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ان میں محض 63 افراد ایسے تھے جہنیں دہشت گردی کے جرم میں یہ سزا ملی جبکہ 183 ایسے افراد پھانسی چڑھائے گئے جو دیگر جرائم میں ملوث تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب بھی پاکستان کی جیلوں میں اس وقت لگ بھگ ساڑھے سات ہزار افراد ایسے ہیں جو موت کی سزا پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔







