پھانسی پر پابندی ہٹنے سے کیا فائدہ ہوا؟

،تصویر کا ذریعہReprieve
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
فیصل آباد کی نصرت پروین کے لیے گذشتہ چھ ماہ کسی قیامت سے کم نہیں گزرے۔ نصرت عبدالباسط کی والدہ ہیں۔ وہی عبدالباسط جہنیں موت کی سزا ہوچکی ہے۔ اور جن کی پھانسی حالیہ چند ہفتوں میں متعدد بار ملتوی کی جاچکی ہے۔
نصرت پروین کہتی ہیں کہ پچیس نومبر کو جب آخری مرتبہ عبدالباسط کی پھانسی موخر ہوئی تو انھیں آخری لمحے تک کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔
<link type="page"><caption> عبدالباسط کی سزائے موت کے خلاف انسانی حقوق کےاداروں کی اپیل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/11/151124_pak_death_sentence_criticism_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
’نہ گھر میں چین تھا نہ جیل کے باہر بیٹھا جارہا تھا۔ کبھی ہم یہ سوچتے تھے اللہ ہمارے ساتھ یہ نہیں کرے گا۔ کبھی سوچتے تھے کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہماری حالت پاگلوں والی تھی۔ یہ تو جس پر گزرتا ہے اسے ہی پتہ ہوتا ہے۔‘
عبدالباسط جیل میں دوران سزا ایک ایسی بیماری کا شکار ہوئے جس سے ان کا نچلا دھڑ مفلوج ہوچکا ہے اور چونکہ ملک کے قانون میں معذور افراد کو پھانسی لگانے کا طریقہ واضع نہیں اس لیے عبدالباسط کی موت کی سزا پر عملدرآمد حکومت کے لیے ایک مخمصہ بنا ہوا ہے۔
گذشتہ برس کے پشاور سکول حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت نے لائحہ عمل کا اعلان کیا تو اس کا پہلا نکتہ دہشت گردی میں ملوث افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد تھا۔ حملے کے فورا بعد سزائے موت پر لگی سات سالہ پابندی ہٹا دی گئی۔
پابندی کے اٹھائے جانے کے بعد توقع یہ تھی کہ جیلوں میں موجود دہشتگردی کے الزامات کے تحت موت کی سزا پانے والوں کی پھانسی پر عمل درآمد ہوگا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔
سزائے موت کی مخالفت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم جسٹس پاکستان پراجیکٹ کے مطابق گذشتہ دسمبر سے اب تک ملک میں 305 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا جن میں محض 63 افراد ایسے تھے جہنیں دہشت گردی کےالزامات کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ جبکہ 183 ایسے افراد پھانسی چڑھائے گئے جو دوسرے جرائم میں ملوث تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تنظیم کی لیگل ڈائریکٹر مریم حق کہتی ہیں ’جن لوگوں کو ایک سال کے دوران موت کی سزا دی گئی ان کوختم کرنے سے نہ تو جرائم کم ہوئے نہ حالات میں بہتری بلکہ ورلڈ کرائم انڈیکس دیکھیں تو پاکستان میں جرائم کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔‘
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک کی جیلوں میں اس وقت لگ بھگ ساڑھے سات ہزار افراد ایسے ہیں جنہیں موت کی سزا ہوچکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان میں 28 کے قریب جرائم ایسے ہیں جن پر موت کی سزا ہوسکتی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن تو سب ہی کے خلاف ہے۔ لیکن کمیشن کے قومی رابطہ کار حسین نقی کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں تو اب تک جو پھانسیاں ہوئی ہیں ان میں بہت ہی گنے چنے دہشت گرد ہیں۔ بہت سے شدت پسند تو گرفتار ہوچکے ہیں۔ کچھ تو بہت بڑے اور مشہور واقعات میں ملوث ہیں لیکن انھیں ابھی تک پھانسی نہیں دی گئی۔ لگتا ایسا ہے کہ ان لوگوں میں سے کچھ کو بغیر کچھ کہے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی اور تحفظ حاصل ہے۔ کچھ ایسے ہیں جن کی تنظیموں کی طرف سے ملک کی سرکردہ شخصیات کو خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ تو ایسے لوگوں کو پھانسی نہ دینے کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔‘
انسانی حقوق کی تنظیموں کا واویلا اپنی جگہ اس معاملے پر حکومت کا موقف دو ٹوک ہے۔ تجارت کے وفاقی وزیر خرم دستگیر خان کہتے ہیں کہ ’سزائے موت ہمارے ملک کے قانون کا حصہ ہے اور جس طرح دوسرے ملک اپنے قوانین پر عملدرآمد کرتے ہیں ہمیں اپنے قانون پر عمل کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ہاں یہ ہمارا فرض ہے کہ یقینی بنایا جائے کہ کسی سے زیادتی نہ ہو۔ اور جب بھی ایسا ہوا ہے ہم نے پھانسیاں موخر کیں ہیں۔‘
جب یہ ملک کا قانون ہے تو انسانی حقوق کی تنظیموں کو آخر اس سزا سے مسئلہ کیا ہے۔ جسٹس پاکستان پراجیکٹ کی مریم حق کہتی ہیں ’بلاشبہہ سزا عدالتی عمل کے بعد ملتی ہے۔ لیکن اگر ملک کا کریمنل جسٹس نظام دیکھا جائے تو اکثر مقدمات میں موت کی سزا پانے والے غریب لوگ ہیں۔ جو عدالت میں اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے۔ انھیں حکومت جو وکیل فراہم کرتی ہے انھیں اپنے موکل کو انصاف دلانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ تفتیش ناقص ہوتی ہے اور شواہد ناکافی ہوتے ہیں۔ اس طرح کے نظام کے تحت موت کی سزا کی مخالفت نہ کی جائے تو کیا کیاجائے۔‘
انسانی حقوق کے حسین نقی کہتے ہیں ” سوال یہ ہے کہ گذشتہ ایک برس سے ملک میں جو پھانسیاں دی جارہی ہیں کیا ان سے جرائم ختم ہوگئے؟ وہ تو کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے ہیں”۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان ایک ہی سال میں پھانسیاں دینے والا دنیا کا بدترین ملک بن گیا ہے۔







