’مسافروں کی حفاظت کو داؤ پر لگایا گیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ترجمان نصراللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ حکومت نے فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی جلدی میں مسافروں کی حفاظت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نصراللہ آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ عملے کو ایجنسیوں کے ذریعے ڈرا دھمکا کر ڈیوٹی پر بلایا گیا ہے جو سول ایویشن کے قوائد وضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
نصر اللہ آفریدی کے مطابق فلائٹس پر بھیجے جانے والے عملے کو کام نہ کرنے کی صورت میں نوکری سے برخاست کرنے کی دھمکی دی گئی ہے لہذا یہ لوگ اعصابی تناؤ میں کام کر رہے ہیں جو سول ایشن کے صحت اور حفاظت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اپنی تمام تر طاقت کے استعمال کے باوجود حکومت صرف تین چار فلائٹس اڑانے میں ہی کامیاب ہوئی ہے۔
نصر اللہ آفریدی نے الزام لگایا ہے کہ گراؤنڈ سٹاف کے ہڑتال پر ہونے کے باعث جہازوں کی پرواز سے قبل مناسب چیکنگ نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کسی بھی وقت حادثہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے لگائے گئے تمام تر الزامات کی تردید کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
دانیال گیلانی کے مطابق ملک میں جزوی فلائٹ آپریشن بحال کر دیا گیا ہے اور تمام فلائٹس کو مکمل قوائد وضوابط کے تحت اڑایا جا رہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مکمل تربیت یافتہ عملہ جہاز اڑا رہا ہے اور عملے پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں دانیال گیلانی نے بتایا کہ پرواز سے قبل انجینیرز طیاروں کی مکمل جانچ پڑتال کرکے ان کو پرواز کے لیے کلیئر کر رہے ہیں۔
پی آئی اے کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گذشہ شب سعودی عرب جانے والی دو پروازیں جدہ سے 725 زائرین کو لے کر اسلام آباد پہنچ گئیں ہیں۔
دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ جلد دیگر ائیر پورٹس سے بھی فلائٹ آپریش بحال کیا جائے۔
یاد رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نجکاری کے خلاف ملازمین دو فروری سے ہڑتال پر ہیں۔
حکومت نے پی آئی اے میں لازمی سروس ایکٹ نافذ کر رکھا ہے اور وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہہڑتال پر جانے والے ملازمین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔







