پی آئی اے کے آپریشنز بدستور معطل،’ایک ارب 80 کروڑ کا نقصان‘

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ادارے کے ملازمین کی ہڑتال جاری ہے اور اس کے باعث فلائٹ آپریشنز جمعرات کو مسلسل تیسرے دن بھی معطل رہے۔

پی آئی اے ملازمین گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں ان کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا۔

ادارے کے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ ’گیارہ دنوں میں پی آئی اے کو 1 ارب 80 کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے۔‘

جمعرات کو انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اب پی آئی اے کے اپنے فلیٹ میں شامل تمام طیارے پاکستانی ایئرپورٹس پر کھڑے ہیں اور کوئی بھر پرواز اڑان نہیں بھر رہی۔

اس احتجاج میں دو دن قبل اس وقت شدت آئی تھی جب کراچی میں پی آئی اے کے دو ملازمین دورانِ احتجاج گولیاں لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ان ہلاکتوں کے لیے رینجرز کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ رینجرز حکام اس الزام سے انکار کر رہے ہیں۔

اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کراچی میں رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ حکومت پی آئی اے کے مظاہرین کے قاتلوں کی گرفتاری اور انھیں ہر قیمت پر انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔

جمعرات کے روز لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت معاملے کی اپنی سطح پر تحقیقات کر رہی ہے جبکہ رینجرز کی طرف سے بریگیڈیر سطح کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

ہڑتال اور احتجاج کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے اور جمعرات کو پی آئی اے کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ایسے تمام مسافر جنھوں نے مختلف روٹس پر پی آئی اے کے کنفرم ٹکٹ خرید رکھے ہیں انھیں مختلف فضائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کے تحت سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

پی آئی اے نے مقامی پروازوں کے مسافروں کو ایئربلیو اور شاہین ایئر کی پروازوں میں جگہ دینے کے لیے ان دونوں فضائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی روٹس پر ایئر بلیو، شاہین، اتحاد ایئرویز اور ترکش ایئر ویز پی آئی اے کے مسافروں کو اپنی پروازوں میں جگہ دیں گے۔

پی آئی اے کے اپنے فلیٹ میں شامل تمام طیارے پاکستانی ایئرپورٹس پر کھڑے ہیں اور کوئی بھر پرواز اڑان نہیں بھر رہی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپی آئی اے کے اپنے فلیٹ میں شامل تمام طیارے پاکستانی ایئرپورٹس پر کھڑے ہیں اور کوئی بھر پرواز اڑان نہیں بھر رہی

دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے چیئرمین پی آئی اے ناصر جعفر کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے جس کے بعد سیکرٹری ایوی ایشن محمد علی گردیزی کو پی آئی اے کااضافی چارج دیا گیا ہے۔

حکومت نے پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ 1952 نافذ کیا ہوا ہے جس کی رو سے کام پر نہ آنے والے ملازمین کا نکالا جا سکتا ہے۔

یہ 2011 کے بعد پہلی بار ہے کہ پی آئی اے کا تمام آپریشن مکمل طور پر معطل ہوا ہے۔

2011 میں یہ آپریشن چار دن بند رہنے کے بعد اُس وقت شروع کیا گیا تھا جب حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے تمام مطالبات مان لیے تھے۔