جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ڈی جی رینجرز سے ملاقات

دوسری جانب پی آئی اے کے مرکزی دفتر میں ملازمین کا احتجاج عام تعطیل کے دن بھی جاری رہا اور اس احتجاج میں ملازمین کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندوسری جانب پی آئی اے کے مرکزی دفتر میں ملازمین کا احتجاج عام تعطیل کے دن بھی جاری رہا اور اس احتجاج میں ملازمین کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کے خلاف احتجاج کے باعث پی آئی اے کے فلائٹ آپریشنز چوتھے روز بھی معطل ہیں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما سہیل بلوچ نے ڈی جی رینجرز سے آج ملاقات کی ہے جس میں دو ملازمین کی ہلاکت کی تحقیقات پر بات چیت کی گئی۔

ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ڈی جی رینجرز نے انھیں دو ملازمین کی ہلاکت کے واقعے کی منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

دوسری جانب پی آئی اے کے مرکزی دفتر میں ملازمین کا احتجاج عام تعطیل کے دن بھی جاری رہا اور اس احتجاج میں ملازمین کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔

ایک ملازم کی بیگم شہناز کا کہنا تھا کہ ’پی آئی اے گھر جیسا ہے۔ ہم وزیر اعظم سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس وقت ملک کے حالات بھی ٹھیک نہیں چل رہے ہیں اس کی نجکاری کب کرنی ہے۔‘

ان کے مطابق وزیر اعظم انھیں بتائیں کہ ان کے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا، ’وہ صرف اپنی حکومت کے بارے میں ہی سوچتے ہیں عوام کے بارے میں نہیں۔‘

ملازمین کے علاوہ سعودی عرب جانے والے مسافروں بھی آج سڑک پر نکل آئے اور انھوں نے احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انھیں متبادل پروازوں کے ذریعے روانہ کیا جائے۔

دریں اثنا سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پی آئی اے نجکاری پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا ہنگامی اجلاس نو فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں پی آئی اے، نجکاری کمیشن اور وزارت خزانہ کے حکام کو قومی فضائی کمپنی کی نجکاری سے متعلق بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والانے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن پی آئی اے کو بیچنا نہیں بلکہ خریدنا چاہتی ہے۔ بعض حکومتی وزرا پی آئی اے کو خریدنے کے لیے خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں اس لیےاپوزیشن جماعتیں نظر رکھیں کہ دبئی میں کون کس سے ملاقات کر رہا ہے۔